زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 48
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 48 جلد اول چاہئے۔عربی میں مثل ہے مَا لَا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ كُلُّه که اگر ساری چیز نہ ملے تو ساری چھوڑ بھی نہیں دینی چاہئے۔یعنی جتنی ملے اتنی لے لینی چاہئے۔ہم نے اس وقت اپنی جماعت کے ان بچوں کی نگہداشت کے لئے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں بہت سا خرچ برداشت کر کے لاہور میں ایک ہوٹل کھولا ہوا ہے مگر افسوس اس کے چلنے میں اگر روک ہوئے ہیں تو وہی لڑکے جو یہاں سے پڑھ کے گئے ہیں۔اپنے کالج کے متعلق تمہاری خواہش کچی، تمہارے جذبات قابل تعریف ، تمہاری آرزو لائق ستائش لیکن میں کہتا ہوں جو کچھ تمہیں فی الحال دیا گیا ہے اسی کی قدر کرنا تمہارا فرض ہے اور جب ہم دیکھیں گے کہ تم اس سے فائدہ اٹھا رہے ہو تو اس سے زیادہ کا انتظام کر دیں گے۔لیکن اگر تمہاری طرف سے روکیں ڈالی جائیں اور تم اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو تو پھر تم ہی بتاؤ تمہاری کالج کی تحریک پر کیونکر توجہ کی جاسکتی ہے۔ہاں اگر تم پوری سعی اور کوشش کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھاؤ اور ہم پر ثابت کر دو کہ اس انتظام کی تم نے قدر کی ہے تو پھر اس سے آگے بڑھانے کے لئے تمہارے ایڈریسوں اور اپیلوں کی ضرورت نہیں ہے خدا تعالیٰ خود پکڑ کر ہم سے تمہارے لئے انتظام کرا دے گا۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کی آمد اب رہی میرے عزیز سید ولی اللہ شاہ صاحب کی آمد پر خوشی۔بے شک تمہیں ان کے آنے پر خوشی ہوئی ہے مگر تمہیں اس قدر خوشی ہو ہی نہیں سکتی جتنی مجھے ہے۔لیکن تمہارا صرف خوشی کا اظہار کرنا کوئی فائدہ نہیں رکھتا جب تک تم اس سے سبق نہ حاصل کرو۔میں پوچھتا ہوں تمہیں ان کے آنے پر خوشی کیوں ہوئی۔ان کے علاوہ ہماری ہی جماعت کے اور کئی ایسے لوگ ہیں جو مدتوں کے بعد واپس آئے ہیں اور پھر ایسے بھی ہیں جو دوسرے ممالک میں مارے گئے ہیں۔تم نے کیوں مرنے والوں کی جدائی کو محسوس نہیں کیا اور آنے والوں کی آمد پر خوشی کا اظہار نہیں کیا۔وہ احمدی بھی ہیں۔ان میں سید بھی ہیں۔ہمارے مدرسہ کے طالب علم بھی ہیں۔غرضیکہ جتنی باتیں سید ولی اللہ شاہ میں پائی جاتی ہیں وہ فردا فردا