زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 39
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 39 جلد اول شخص کسی غریب کو ایک روپیہ دے تو یہ ایک اچھا کام ہے وہ اس روپیہ کو لے کرا ضروریات کو پورا کرے نہ کہ کسی ناجائز جگہ خرچ کر دے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اسی روپیہ کی شراب لے کر پی لے۔اسی طرح ایک شخص کسی کو ایک عہدہ پر مقرر کرتا ہے جو بہت اچھی بات ہے ممکن ہے وہ اس عہدہ پر دیانت اور امانت سے کام کرے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ظلم وستم کا مرتکب ہو۔تو ہر قسم کے کاموں میں نیکی کے ساتھ برائی کا احتمال بھی لگا ہوا ہے۔لیکن تبلیغ ایک ایسا کام ہے کہ نیکی ہی نیکی ہے کیونکہ صداقت برے طور پر استعمال ہی نہیں ہو سکتی۔اور اگر کوئی اسے بگاڑ کر پیش کرتا ہے تو وہ صداقت نہیں ہے اس لئے اس کا نام تبلیغ نہیں رکھا جا سکتا۔تو صداقت کبھی اپنی اصلی حالت میں برائی کے طور پر استعمال نہیں کی جاسکتی۔لیکن باقی چیزیں اپنی اصلی حیثیت میں بھی برائی کی جگہ استعمال ہو سکتی ہیں۔پس تبلیغ ہی ایک ایسا کام ہے جس کا نتیجہ یقینی طور پر بہتر نکلتا ہے اور جو بہت دیر پا ہوتا ہے اس لئے وہ بچے جو مدرسہ احمدیہ میں پڑھتے ہیں یا اور وہ لوگ جو تبلیغ کے فرائض ادا کرتے ہیں ان کو اس کام کی اہمیت ہر وقت مد نظر چاہئے کیونکہ جب تک کسی کام کی اہمیت مد نظر نہ ہو اس وقت تک اس کے کرنے کا پورا پورا شوق بھی پیدا نہیں ہوتا۔چونکہ تبلیغ کا کام ایک ایسا کام ہے جو بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اس لئے مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں کو چاہئے کہ نہایت محنت اور کوشش سے اس کو کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں اور اس بات کو خود یا درکھیں کہ جتنا بڑا کوئی کام ہوتا ہے اس کے لئے اتنی ہی بڑی قربانی کرنی پڑتی ہے۔مدرسہ احمدیہ میں پڑھنے والے بچوں میں سے شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ ہم پڑھنے کے بعد کھائیں گے کہاں سے اور کس طرح اپنی ضروریات کو پورا کریں گے۔اگر کسی کے دل میں ایسا خیال ہو تو وہ بہت جلدی اس کو دور کر دے۔اور اگر دور نہیں کر سکتا تو پڑھنا چھوڑ دے تا کہ ایک نیکی کے کام کے ساتھ اس کے دل میں یہ برا خیال پیدا ہو کر اس کی نیکی کو بھی برباد نہ کر دے۔لیکن سب کو یا د رکھنا چاہئے