زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 38

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 38 جلد اول اور درخت وغیرہ چل رہے ہیں۔حالانکہ وہ خود چل رہا ہوتا ہے اور درخت کھڑے ہوتے ہیں۔ہمارے مبلغین کا یہ ارادہ اور نیت ہے یت ہر گز نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ ہونی چاہئے کہ ہم دوسروں کو اسلام منوانے نہیں بلکہ پہنچانے جا رہے ہیں۔اور صداقت وحق کو پہنچا کر اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔کیونکہ یہ اسی کے اختیار اور قبضہ میں ہے کہ کسی کے دل کو حق کے قبول کرنے کے لئے کھول دے۔یہی نصیحت میں نے قاضی عبد اللہ صاحب کو چلتے وقت کی تھی اور بعد میں بھی بار بار ان کو یہی لکھتا رہا ہوں کہ تم حق پہنچا دو۔یہی تمہارا کام ہے۔منوانا اور قبول کرانا تمہارا کام نہیں ہے۔یہی نصیحت میں اس وقت مفتی صاحب کو بھی کرتا ہوں پس ہمارے م ے مبلغین کا مقصد اور مدعا یہی ہونا چاہئے۔مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو خطاب اب میں دعوت دینے والوں کو جو خود مبلغ بننے کی خواہش اور نیت رکھتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو خوب ذہن نشین کرلیں کہ ایک کام جس کا نتیجہ ایک گھنٹہ تک قائم رہتا ہے اس کی نسبت اس کام کی طرف جس کا نتیجہ دو گھنٹہ تک برقرار رہتا ہے زیادہ توجہ کی جاتی ہے اور دنیا میں جو کام ہو رہے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جو یا تو خود فنا ہونے والے ہیں یا جن کے نتائج فنا ہو جاتے ہیں یا جن کے نتائج کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ بہتر اور عمدہ ہی نکلیں گے لیکن تبلیغ ایک ایسا کام ہے جس کے متعلق یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا نتیجہ ضرور ہی اچھا اور ہمیشہ قائم رہنے والا نکلے گا۔دیکھو اگر ایک ڈاکٹر کسی کی آنکھوں کا علاج کرتا ہے اور وہ اچھی ہو جاتی ہیں تو یہ اس نے بہت اچھا اور عمدہ کام کیا ہے لیکن اس کے اس کام کا نتیجہ اس انسان کی زندگی تک ہی محدود ہے اور ممکن ہے کہ انہیں آنکھوں کے ذریعہ نیک کام کرے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ برا کام بھی کرے تو برائی کا احتمال بھی ساتھ لگا ہوا ہے۔اسی طرح اگر ایک