زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 37
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 37 جلد اول قبول کرنے سے رکتے اور مسلمان نہیں بنتے تو انہیں ان کے خیالات کے مطابق ایک نیا اسلام بنانا پڑا۔لیکن اگر وہ یہ غرض لے کر جاتے کہ ہمارا کام اسلام پہنچانا ہے نہ کہ مسلمان بنانا تو اگر کوئی ایک شخص بھی اسلام قبول نہ کرتا تو کامیاب سمجھے جاتے۔اور ان کے لئے خوش ہونے کا مقام تھا کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا لیکن چونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم مسلمان بنائیں گے اس لئے وہ دوسروں کو مسلمان بناتے بناتے اپنا اسلام بھی چھوڑ بیٹھے۔حالانکہ قرآن مجید نے یہ نہیں کہا کہ تم لوگوں کو مسلمان بناؤ۔دیکھو قرآن کریم اور حدیث شریف سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کے ذریعہ کسی کو ہدایت ملی ہوا سے بھی ثواب عظیم حاصل ہو گا 3 لیکن یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ حق کا منوانا اور قبول کروانا کسی کا فرض ہے اور جو ایسا کرے گا اسے اجر ملے گا۔بلکہ جہاں دوسروں کو حق پہنچانے کا ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی اس بات سے جھاڑ بتلا دی گئی ہے کہ تم کون ہو کسی کو منوانے والے۔یہ کام خدا کا ہے 4 پس جو لوگ اس خیال کو لے کر تبلیغ کے لئے جاتے ہیں کہ ہم دوسروں کو اسلام منوائیں گے ان کے حسب حال یہ قصہ ہے۔کہتے ہیں ایک دھوبی تھا وہ ایک دن گھر والوں سے ناراض ہو کر اپنے بیل کو لے کر گھر سے باہر جا بیٹھا اور اس بات کا منتظر رہا کہ گھر والے مجھے منوانے آئیں گے۔لیکن گھر والے بھی اس سے تنگ آئے ہوئے تھے اس لئے اسے منوانے کے لئے کوئی نہ گیا۔جب اس نے دیکھا کہ شام ہو گئی ہے اور بھوک لگ رہی ہے اور منوانے کوئی آیا نہیں تو بیل کو گھر کی طرف چلا کر خود اس کی دم پکڑ کر لڑھکتا ہوا چل پڑا اور کہتا جاتا کہ نہیں میں نہیں گھر جاتا۔مجھے نہ لے جاؤ۔اس طرح وہ یہ ظاہر کرتا کہ گو میں تو گھر نہیں جانا چاہتا مگر بیل مجھے لے جا رہا ہے۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم دوسروں کو مسلمان بنا رہے ہیں اور انہیں اسلام منوا ر ہے ہیں حالانکہ وہ خود ان کی باتیں مان رہے ہوتے ہیں اور ان کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسا کہ چلتی گاڑی میں بیٹھا ہوا کوئی کہے کہ میں تو کھڑا ہوں