زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 430

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 430 جلد اول امریکہ کا ایک با اثر اور بارسوخ شخص مفتی محمد صادق صاحب یا مولوی محمد الدین صاحب کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی طرف مائل ہوا۔وہ حبشی النسل تھا اور حبشی لوگوں کا بہت بڑا لیڈر تھا۔اس نے اسلام کی طرف رغبت کا اظہار کیا مگر وہ چاہتا تھا کہ سفید رنگ کے لوگوں کے خلاف جو تحریک حبشیوں میں چل رہی ہے اس میں ہمارے مشنری حصہ لیں۔اس بات کو ہماری ہدایات کے ماتحت ہمارے مبلغوں نے نہ مانا اور اس نے قطع تعلق کر لیا۔اگر اس کی بات مان لی جاتی تو بہت سے لوگوں کو اسلام میں داخل کر لیا جا سکتا تھا۔مگر نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کے سیاسی خیالات کی وجہ سے ایک طرف تو تبلیغ میں روک پیدا ہو جاتی اور دوسری طرف جو لوگ اس طرح داخل ہوتے وہ حقیقی مسلمان نہ بن سکتے۔اس وقت جاوا اور سماٹرا کی حالت بھی ایسی ہی نازک ہے۔وہاں کی حکومت با وجود یورپین حکومت ہونے کے اصولِ حکومت میں انگریزوں کے خلاف چلتی ہے۔اس کا فرانسیسی طریق ہے۔وہ ماتحت لوگوں سے ملیں گے ، ان سے تعلقات قائم کریں گے مگر سیاسی اختلافات کو برداشت نہیں کر سکتے۔انگریز ماتحت لوگوں کو حقوق دیں یا نہ دیں ایک حد تک اختلاف برداشت کر سکتے ہیں لیکن فرانسیسی اختلاف برداشت نہیں کر سکتے۔وہ ماتحت لوگوں سے انگریزوں کی نسبت زیادہ ملیں گے، ان کے ساتھ کھا پی بھی لیں گے، عام تعلقات بھی زیادہ رکھیں گے لیکن سیاسی امور میں اختلاف برداشت نہیں کریں گے۔یہی حال ڈچ قوم کا ہے۔وہ جس حد تک سیاسی طور پر آگے جاتی ہے اس سے آگے جانے کی آواز بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتی۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم وہاں سیاسیات میں حصہ نہ لیں۔وہاں بہت بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ان میں آزادی کے جذبات ہندوستان کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ ہندوستانی مسلمان تو سمجھتے ہیں کہ اگر اہل ہند کو حکومت ملی تو اس میں زیادہ اقتدار ہندوؤں کو حاصل ہوگا۔مگر وہاں کے مسلمان سمجھتے ہیں مسلمانوں کی حکومت ہو گی۔لیکن اگر ہم انہیں حقیقی کامیابی تک پہنچانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ سیاسیات میں دخل نہ دیں۔اور نہ صرف یہی کہ وہاں کی سیاسیات میں دخل