زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 429

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 429 جلد اول مبلغین سماٹرا اور جاوا کونصائح 6 نومبر 1930 بعد نماز ظہر لاہور کے کالجوں کے احمدی طلباء کی ایسوسی ایشن نے مکرم مولوی رحمت علی صاحب اور مکرم مولوی محمد صادق صاحب کو، ٹی پارٹی دی جس میں حضرت خلیفۃ السیح الثانی بھی شامل ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل خطاب فرمایا :۔گو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو ایڈریس اس وقت پڑھا گیا ہے اس کا جواب مبلغین کی طرف سے دیا جاتا لیکن چونکہ وقت اس کی اجازت نہیں دیتا ( کیونکہ چار بجے کی گاڑی پر مبلغین روانہ ہونے والے تھے اور تین بج چکے تھے ) اس لئے میں ان کا وقت بچانے کے لئے جس میں انہیں گھر والوں سے بھی ملنا ہے اختصاراً چند نصائح کرتا ہوں۔جس وقت مولوی رحمت علی صاحب پہلی دفعہ یہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے انہیں ایک ہدایت دی تھی پہلے میں اسی کو دہراتا ہوں۔وہ ہدایت یہ تھی کہ ہر چیز کی قدر و قیمت است کے مقابلہ کی چیز کی قیمت سے ہوتی ہے۔دنیا میں ہر کام جو ہم کرتے ہیں اس کے کرنے پر بعض اور کاموں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔اور ہر چیز جو لیتے ہیں اس کے لینے کے لئے اور چیزوں کوترک کرنا پڑتا ہے۔اور یہ نسبتی دور ہر وقت اور ہر کام میں چل رہا ہے۔جب مبلغ کسی ملک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو انہیں دنیا کی ساری چیزوں سے نسبتی طور پر اسلام کو مقدم کرنا چاہئے اور جو چیز بھی اس میں روک ثابت ہوا سے قربان کر دینا چاہئے۔یہی وہ روح ہے جو اس ملک کے لوگوں میں پیدا ہو جائے تو وہ ہماری تبلیغ میں کارآمد ہو سکتے ہیں۔اور اگر نہ پیدا ہو تو وہ تبلیغ میں روک بن سکتے ہیں۔