زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 431
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 431 جلد اول نہ دیں بلکہ حکام سے اچھے تعلقات رکھیں۔کیونکہ وہاں کے لوگ ہمارے مخالف ہیں اور ہر طرح ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے حکام کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے ضروری ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کے خلاف جاسوسی کی جائے یا لوگوں کے خلاف حکام کو بھڑ کا یا جائے۔اسے ہم سخت معیوب اور ناجائز سمجھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ان کو ہمارے صحیح حالات کا علم رہے۔پس جو مبلغ وہاں جائیں ان کے لئے نہایت ضروری ہے کہ حکام سے تعلقات رکھیں اور انہیں اصل حالات سے واقف کرتے رہیں اور بتائیں کہ ہم سیاسی امور میں دخل نہیں دیتے۔ہم آزادی چاہتے ہیں اور ہر ملک کے لوگوں کے لئے اسے ضروری سمجھتے ہیں مگر اس کے لئے ایسے ذرائع اختیار کرنا جائز نہیں سمجھتے جو فتنہ و فساد پیدا کریں۔اسی طرح مولوی رحمت علی صاحب کا م کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو سوسائٹی بھی ان کے خلاف کھڑی ہوئی وہ دب جاتی رہی ہے۔علاوہ ازیں ڈچ حکومت کو ہمارے سلسلہ کے متعلق خاص توجہ پیدا ہوئی۔چنانچہ اس حکومت کے دو کنسل 1 یہاں آئے۔ایک اُن دنوں آئے جبکہ میں شملہ میں تھا اس لئے وہ قادیان سے ہو کر مجھ سے ملنے کے لئے شملہ گئے اور انہوں نے حالات معلوم کئے۔یہ ہمارے مبلغ کے حکام کے ساتھ اچھے تعلقات کا ہی نتیجہ تھا۔پس ہمیشہ ہمارے مبلغوں کے مد نظر یہ بات رہنی چاہئے کہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔وہ تعاون نہیں جو قومی حقوق کو تلف کرنے والا ہو بلکہ اس حد تک کہ حکومت مخالفت پر نہ کھڑی ہو جائے۔دوسری نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہر قوم کے رسم ورواج علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں اور مبلغ کے لئے ان کا سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔اس کے لئے میں انہیں اور خاص کر مولوی محمد صادق صاحب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہاں جاتے ہی وہاں کے لوگوں کے رسم و رواج کا مطالعہ کریں۔نیز مذہب کے متعلق بھی واقفیت بہم پہنچائیں کہ وہ لوگ کیا عقا ئدر کھتے ہیں۔کئی لوگ یونہی سمجھ لیتے ہیں کہ فلاں ملک کے لوگ حنفی کہلاتے ہیں اس لئے ان کے عقائد وہی ہوں گے جو ہندوستان کے حنفیوں کے ہیں۔حالانکہ ان میں فرق ہوتا ہے۔مثلاً ہندوستان کو