زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 428

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 428 جلد اول اپنے کام کی اہمیت نہ سمجھنے کی وجہ سے انسان اور فضول باتوں میں پڑ جاتا ہے۔آپس میں جھگڑے اور اختلاف شروع ہو جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔مگر جب اپنے کام کی اہمیت اور خطرہ کا پورا پورا احساس ہو تو پھر اس کی توجہ اپنے کام کی طرف ہی ہوتی ہے۔دیکھو اگر کسی کے گھر پر دشمن حملہ کر دے تو کیا اُس وقت گھر والے اس بحث میں پڑیں گے کہ یہ سوٹا میرا ہے اور وہ تیرا ؟ وہ اُس وقت دشمن کو پسپا اور مغلوب کرنے کے لئے متحد ہو جائیں گے۔پس جب کام کی اہمیت معلوم ہو جائے تو جنہیں وہ کام کرنا ہوتا ہے وہ آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں بلکہ کام میں کامیابی حاصل کرنا ان کے پیش نظر ہوتا ہے۔مولوی رحمت علی صاحب جاوا، سماٹرا اور بور نیو تینوں جزیروں میں امیر تبلیغ ہوں گے۔مقامی امیر وہاں ہی کے لوگ ہو سکتے ہیں اس میں ہم دخل نہیں دینا چاہتے۔میں امید کرتا ہوں مولوی محمد صادق صاحب اس رنگ میں ان کی اطاعت کریں گے جو ایک مسلمان کی شان کے شایان ہے اور مولوی رحمت علی صاحب سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ محبت، شفقت اور راہنمایانہ طریق عمل سے یہ ثابت کر دیں گے کہ جسمانی باپ جو سلوک اپنی اولاد سے کرتا ہے یا جسمانی بھائی جو سلوک اپنے جسمانی بھائی سے کرتا ہے اس سے بہتر روحانی باپ روحانی اولاد سے اور روحانی بھائی روحانی بھائی سے کرتا ہے۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ اگر دونوں اصحاب تعاون اور محبت سے کام کریں گے تو خدا تعالیٰ ہر میدان میں انہیں فتح عطا کرے گا۔اور وہ جنگ جس میں اس وقت ہم اپنوں سے بھی اور غیروں سے بھی دکھ اٹھا رہے اور تکلیفیں جھیل رہے ہیں اس کے متعلق ایک دن آئے گا جب ان لوگوں کو خود تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی جنگ ہمارے ساتھ درست نہ تھی اور یہ کام جو ہم کر رہے ہیں ان کا کام تھا۔میں دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ ان عزیزوں کو اس فتح کے لئے ایک کافی حصہ کام کرنے کا عطا کرے۔“ (الفضل 8 نومبر 1930ء)