زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 420
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 420 جلد اول ساری عمر نہیں بھول سکتا اور میرے سامنے آتشیں حروف میں لکھا ہوا یہ فقرہ موجود ہے جو کسی نے مجھے سنایا کہ آپ کو امان اللہ کا انجام یاد نہیں۔اس قسم کی باتوں کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو دوسروں میں بددلی اور مایوسی پیدا کرتے ہیں۔یہ فقرہ کہنے والے یاد رکھیں امان اللہ کا جو انجام ہوا وہ میرا نہیں ہو سکتا۔بلکہ ان کا ہوگا وہ اپنی فکر کریں۔اس فقرہ کے کہنے سے انہوں نے اپنا انجام بگاڑ لیا۔گو کہنے والے نے لکھ دیا ہے کہ اسے خواب آگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی تائید خلیفۃ المسیح الثانی کے ساتھ ہے۔میں نے بھی یہی کہا تھا کہ خدا کی تائید میرے ساتھ ہے۔اب اس نے تو بہ کا خط لکھ دیا ہے۔مگر جو لوگ ایسی باتیں نکلوانے کے محرک ہیں وہ ذمہ داری کے نیچے ہیں اور اس کی تو بہ کے متعلق بھی الله خدا ہی جانتا ہے کہ قابل قبول ہے یا نہیں۔رسول کریم ﷺ کے سامنے انصار میں سے ایک نے کہا تھا خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال و دولت مکہ والے لے گئے ہیں۔اس کے بعد اس نے تو یہ بھی کی 8 مگر آج تک انصار اس کا خمیازہ بھگتے چلے آتے ہیں۔غرض مبلغ کے لئے پہلی بات تو یہ ضروری ہے کہ اس میں تعاون کی روح ہو۔دوسرے یہ کہ کسی کی شکایت پر آمادہ نہ ہو۔پہلے نے جو کچھ کیا اپنی دیانت کے لحاظ سے صحیح اور درست سمجھ کر کیا۔اگر اس میں غلطی یا نقص ہو تو یوں کہا جا سکتا ہے اگر فلاں بات کی اصلاح ہو جائے تو اچھا ہے۔یہ نہیں کہنا چاہئے کہ فلاں نے فلاں کام خراب کر دیا اب میں صحیح طور پر کر رہا ہوں۔جو لوگ اس قسم کی دوسروں کی شکائتیں کرتے ہیں اگر خودان کے متعلق کوئی یہی بات کہے تو وہ کہیں گے کیا دین کی خدمت ہم نے اسی لئے کی تھی کہ دین کے کام کو خراب کر کے اپنی آخرت تباہ کر لیں۔میں کہتا ہوں یہی بات وہ دوسروں کے لئے کیوں نہیں کہتے۔اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔اور جب کسی طریق میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو ایسے طرز پر اس کا ذکر کیا جائے کہ کسی کی شکایت نہ ہو۔کسی قسم کا تفرقہ اور شقاق نہ پیدا کیا جائے۔