زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 421
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 421 جلد اول اس کے بعد میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو ایک امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔کچھ دن ہوئے بعض طلباء کی طرف سے شکایت آئی تھی کہ جامعہ کی پڑھائی ٹھیک نہیں رہی۔میرے نزدیک ان کی شکایت بجا تھی۔میں نے تحقیقات کی تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ان کی پڑھائی ٹھیک نہیں ہوئی۔مگر ایک بات جس پر ان میں سے بعض نے بہت زور دیا اور جو یہ ہے کہ ان کے لئے مولوی فاضل وغیرہ کے امتحان دینے کا موقع رکھ دیا جائے۔اس کے متعلق میں صفائی سے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جہاں میں ہر جائز شکایت کو دور کرنے کے لئے تیار ہوں اور قطعا کسی کی پرواہ نہ کروں گا، نہ اساتذہ کی ، نہ پرنسپل کی ، نہ نظارت کی۔جو جائز شکایت ہو گی خواہ طلباء کی ہو یا کسی اور کی اسے دور کرنے کے لئے تیار ہوں وہاں ایک بات اچھی طرح سمجھا دینا چاہتا ہوں جس میں قطعاً کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو سکتی کہ مدرسہ احمدیہ کی غرض مبلغ پیدا کرنا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کے تعلیمی کورس ایسے رنگ میں ڈھالیں کہ یہ غرض پوری ہو سکے۔اگر کوئی خیال رکھتا ہے کہ اس کے کورس مولوی یا مولوی عالم یا مولوی فاضل کے امتحانات کے لحاظ سے رکھے جائیں تو یہ درست نہیں ہے۔ان امتحانوں کا اگر ہم لحاظ رکھتے ہیں تو وہ ثانوی بات ہے کہ جن لوگوں کو ہم کام پر نہ لگا سکیں انہیں باہر ملازمت مل جائے۔اور دوسروں کے لئے ان امتحانات کی یہ غرض ہے کہ وہ انگریزی کی تعلیم حاصل کر سکیں اور بیرونی ممالک میں بطور مبلغ بھیجے جاسکیں۔اگر یہ بات مدنظر نہ ہوتی تو ان امتحانوں کو ہم مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے لئے بالکل اڑا دیتے۔ہماری اصل سکیم یہ ہے کہ سلسلہ کے ہر کام پر جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل لوگوں کو لگایا جائے۔کلر کی کا کام بھی انہی کے سپرد ہو، مدرسہ ہائی سکول کی مدرسی بھی وہی کریں، دیگر کاموں پر بھی انہی کو لگایا جائے تاکہ ہمارے سارے کاموں میں ایک ہی قسم کی رو کام کر رہی ہو۔عیسائیوں نے اس طریق سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ان کے جتنے کالج ہیں وہ پادریوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔اس کا یہ اثر ہے کہ باوجود دہریت کا شکار ہو جانے کے عیسائیوں میں