زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 419

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 419 جلد اول ترقی کرے اس لئے خدا تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ہسپانیہ میں مسلمانوں نے جو ترقی کی اس میں صاف طور پر ہسپانوی دماغ کا اثر معلوم ہوتا ہے۔مصر میں مسلمانوں نے جو ترقی کی اس میں مصری دماغ کا اثر نظر آتا ہے۔حجاز میں مسلمانوں نے جو ترقی کی اس میں حجازی دماغ کا اثر دکھائی دیتا ہے۔عراق میں مسلمانوں نے جو ترقی کی اس میں عراقی دماغ کا اثر ظاہر ہے۔جو لوگ قضا کے ماہر ہیں انہیں امام مالک میں خالص عربی رنگ دکھائی دیتا ہے کہ سیدھی سادھی نیچر کی بات لے لی۔امام شافعی چونکہ اپنے ملک سے باہر نکلے اس لئے ان کا پہلا رنگ بدل گیا اور مصری دماغ نے ان پر اثر کیا۔ادھر عراق اور ایران کا اثر امام ابو حنیفہ پر ہوا اور امام حنبل پر شافعیت اور مالکیت دونوں کا اثر پڑا۔اس لئے ان میں دونوں رنگ نظر آتے ہیں۔تو تو جن باتوں میں اجازت ہے کہ دماغ اپنا رنگ اختیار کرے ان میں ہر ملک کا دماغ اپنے لئے علیحدہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔غرض ساری دنیا سے جو مذہب تعلق رکھتا ہے ساری قوموں کا اس میں شامل ہونا ضروری ہے تا کہ وہ مختلف رنگ کے دماغوں کے ملنے سے ایسی صورت اختیار کر سکے کہ ساری قو میں اس پر چل سکیں۔مگر بعض لوگ کہتے ہیں دوسرے ممالک اور دوسری قوموں میں تبلیغ کی کیا ضرورت ہے۔ایسے لوگ گو یا کنویں کے مینڈک کی سی رائے رکھتے ہیں اور بہت لوگ چونکہ کنویں کے مینڈک ہی ہوتے ہیں انہیں یہ بات پسند آجاتی ہے۔وہ سمندر کے مینڈک نہیں ہوتے اس لئے خیال کرتے ہیں ایسے لوگ بہت دانا ہیں۔حالانکہ ان کو نہ تو تجربہ ہوتا ہے نہ ان میں روحانیت ہوتی ہے نہ اخلاص ہوتا ہے۔ان میں سے جو جتنا پھدک سکتا ہے پھدک لیتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ اس سے زیادہ پھد کنا مضر ہے۔اس میں بعض مبلغین اور دوسرے لوگوں کا حصہ ہے جو کہتے ہیں دوسرے ممالک میں تبلیغ کرنا فضول کام ہے۔اس لئے مجھے اس بات پر زیادہ زور دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ایسے لوگ خیال نہیں کر سکتے کہ مجھے ایسی باتوں سے کس قدر بے چینی اور تکلیف ہوتی ہے۔میں