زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 418
جلد اول زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 418 دو فرانسیسی بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے اور بعض میں ہر فرانسیسی دوسرے فرانسیسی سے اشتراک رکھے گا۔اسی طرح جرمن بعض باتوں میں ساری دنیا سے مطابقت رکھیں گے لیکن بعض میں ہر جرمن دوسرے جرمن سے جدا ہو گا اور بعض میں تمام جرمن ایک دوسرے سے اشتراک رکھیں گے۔پس ایک فرانسیسی یا ایک جرمن دماغ جس نقطۂ نگاہ سے کسی بات پر غور کرنے کا عادی ہے اگر وہ غور کرے گا تو ضرور ہندوستانی دماغ کی نسبت اس میں جدت نکالے گا۔ایک موٹی مثال تصوف میں دیکھ لو۔متصوفین کو پہلے لوگ تو رَجْمًا بِالْغَيْبِ 6 کے طور پر اولیاء اللہ سمجھتے تھے۔لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ اولیاء اللہ تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے ہمیں بتایا ہے۔مگر وہ تصوف جو ایران میں پھیلا اس کا اور رنگ تھا۔جو مصر میں پھیلا اس کا اور رنگ تھا۔جو عرب میں پھیلا اس کا اور رنگ تھا۔اگر مصر کے تصوف کو عرب کے تصوف کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ان میں صریح اختلاف نظر آئے گا۔مصر کا تصوف اور لائن پر چلتا ہو گا اور عرب کا تصوف اور لائن پر اور ایران کا تصوف ان دونوں سے علیحدہ لائن پر۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ ہر ملک کے لوگوں کے دماغی اثرات الگ الگ تھے۔پھر حکومتوں کے تعلق کی وجہ سے تصوف میں فرق نظر آئے گا۔جب حکومت حاصل تھی اُس وقت اس کا اور رنگ تھا اور جب حکومت میں تنزل آ گیا اُس جونم وقت اور رنگ ہو گیا۔غرض جو مذہب ساری دنیا کے لئے ہے وہ محتاج ہے اس بات کا کہ اس کی وہ باتیں جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں اس میں انہیں آزاد چھوڑا جائے۔اور ہر قوم کے دماغی اثرات ان میں اپنے اپنے رنگ میں ظاہر ہوں۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِن تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ 7 اگر یہ باتیں لوہاری یا ترکھانی پیشہ کے متعلق ہوتیں تو ان کا ظاہر ہونا کیوں بُر الگتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ باتیں مذہب کے متعلق ہیں مگر ایک محدود دائرہ کے اندر رکھ دیتی ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر قوم اپنے رنگ میں