زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 379
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 379 جلد اول نو عمروں کو دیکھا۔اُس وقت بھی دیکھا جب میں بچہ تھا۔اُس وقت بھی دیکھا جب میں جوانی کے قریب تھا۔اُس وقت بھی دیکھا جب میں جوان ہوا۔اور اس وقت بھی دیکھا تھا جب میں قومی کے لحاظ سے بوڑھا ہوں مگر عمر کے لحاظ سے ادھیٹر عمر کو پہنچنے والا ہوں۔اور لغت کے لحاظ سے تو ادھیڑ عمر کو پہنچا ہوا ہوں۔میں نے ان کو بھائی ، شاگرد، ماتحت اور افسر کی حیثیت سے دیکھا اور ہر حالت میں مجھ پر جو اثر ہوا وہ اچھا ہی اثر تھا۔اور میں نے ان کو ہر حالت میں دوسروں سے ممتاز پایا۔بحیثیت استاد کے اور بحیثیت اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ کام میرے سپرد کیا گیا کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو ان کی غلطیوں کی طرف توجہ دلاؤں۔میں انہیں غلطیوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور سختی سے بھی توجہ دلاتا ہوں۔مگر کبھی میرے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں آیا کہ ہماری جماعت کے لوگ دوسروں کے مقابلہ میں کسی لحاظ سے گرے ہوئے ہیں یا ان کے برابر ہی ہیں۔بلکہ میں نے ہمیشہ یہی پایا کہ ہماری جماعت کے لوگ دوسروں کے مقابلہ میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں اور ایسی حالت میں ہیں جو دوسروں میں نہیں پائی جاتی۔اور ہمارے نو جوانوں کی بھی یہی حالت ہے۔کیا بلحاظ دینی قربانیوں کے، کیا بلحاظ دینی کاموں میں حصہ لینے کے اور کیا بلحاظ نظام کا احترام کرنے کے۔پس وہ فقرہ جو میں نے سنا اس لئے میرے لئے تکلیف دہ نہ تھا کہ اس کا کوئی مفہوم درست تھا۔بلکہ اس لئے کہ اس شخص کو اس قسم کا فقرہ منہ سے نکالنے کی جرات کیوں ہوئی۔میرے خیال میں اس کی وجہ وہ ذہول کے ایام تھے جو پچھلے چند سالوں میں گزرے کہ ہمارے نوجوانوں نے دینی کاموں میں پورے طور پر حصہ نہیں کیا۔وہ دنیا جس میں ہم بستے ہیں ایسی ہے کہ جو چیز لوگوں کو نظر آئے اس کے وہ قائل ہوتے ہیں اور جو نظر نہ آئے اس کا انکار کر دیتے ہیں۔غیر تو غیر میں نے احمدیوں سے سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں کوئی خاص قربانی نظر نہیں آتی اور ایسے لوگوں کو کے مونہوں سے سنا جن پر غیر مخلص ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔میں سمجھتا ہوں وہ مخلص ہیں مگر ان کی نگاہ اتنی محدود بلکہ ان کا نقطہ نگاہ اتنا متعصبانہ تھا کہ انہوں نے اپنے نزدیک