زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 380
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 380 جلد اول قربانی کے متعلق ایک نقطہ مد نظر رکھا اور اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ پا کر کہہ ہے آپ کی زندگی میں قربانی نظر نہیں آتی۔یہ نہیں کہ ایسے لوگ سینکڑوں ہیں یا بیسیوں ہیں۔لیکن اگر ایک بھی ہے تو اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ایک فدائی کی نگاہ سے بھی ایسی باتیں پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔وہ تعلق جو جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہے اور وہ تعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جماعت سے ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے اگر ایک شخص بھی جس کے ایمان پر ہم الزام نہ لگا سکیں اور جس کے اخلاص پر حرف گیری نہ کر سکیں ، جسے شرارتی اور جھوٹا نہ کہہ سکیں ایسی بات منہ سے نکالتا ہے تو معلوم ہوا انسان کا زاویہ نگاہ ایسا ہے کہ نمایاں چیز بھی اس سے اوجھل ہو سکتی ہے۔غرض دنیا اس طرح چلتی ہے کہ ہر شخص ہر چیز کونہیں دیکھ سکتا بلکہ ہر شخص ایک خاص دائرہ کے اندر دیکھتا ہے اور جو چیز اس دائرہ سے باہر ہو وہ اس کی نظر سے اوجھل رہتی ہے۔گو یا لوگ اپنی اپنی ایجاد کردہ ٹیکرس کوپ سے دیکھنا چاہتے ہیں۔جو چیز اس کے نیچے آ جائے اسے دیکھ لیتے ہیں اور جو نہ آئے اسے نہیں دیکھتے۔اسی طرح بالکل ممکن ہے بلکہ غالب گمان یہی ہے کہ اس شخص کی ٹیکرس کوپ کے سامنے کوئی بات آئی اور اس نے سارے نو جوانوں پر تھوپ دی۔یا کوئی خاص خوبی اس نے مد نظر رکھی جو اسے نوجوانوں میں نظر نہ آئی یا نوجوانوں کے کاموں کی نمائش اس کے سامنے ایسے رنگ میں نہ ہوئی جو اسے پسند تھا۔میں اسے اپنے الزام میں غلطی پر سمجھتا ہوں اور ایک منٹ کے لئے بھی یہ سمجھ نہیں سکتا کہ وہ صحت پر ہے۔مگر باوجود اس کے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہمارے نو جوانوں نے ایسے کاموں میں جو سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں پچھلے ایام میں کم حصہ لیا ہے۔مجھے تمہارے اخلاص میں شبہ نہیں مگر کئی طبائع ایسی ہیں جو دل کے اخلاص کو نہیں دیکھ سکتیں بلکہ ان کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے۔اگر انہیں کم نظر آئے تو جھٹ فتوی لگا دیتی ہیں کیونکہ وہ محتاج ہیں اس بات کی کہ ان کی محدود نظر کے سامنے کوئی چیز لا کر رکھی جائے تب وہ دیکھیں۔