زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 378

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 378 جلد اول انہیں احمدیت کی صداقت کا قائل کیا۔مگر جو مبلغ وہاں گیا وہ کوئی بڑی عمر کا نہ تھا۔بڑا تجربہ کار بھی نہ تھا۔بڑی حیثیت کا بھی نہ تھا۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت ہے کہ جو آپ کو قبول کرتا ہے اس میں مقناطیسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اس طاقت کو لے کر جہاں جاتا ہے لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد میں نوجوانوں کی طرف مخاطب ہوتا ہوں اور اپنی بات اس تکلیف دہ فقرہ سے شروع کرتا ہوں جو لاہور میں پچھلے سفر کے دوران میں میرے کان میں پڑا۔شاید میں اپنی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اس تقریب میں بھی نہ آتا۔کیونکہ آج ہی مجھے خطبہ جمعہ بھی پڑھنا پڑا۔مگر میں اس فقرہ کی وجہ سے آ گیا۔وہ اس لئے تکلیف دہ نہ تھا کہ نو جوانوں کی طرف سے کہا گیا مگر ان کے متعلق ضرور تھا۔ایک شخص نے کہا آپ کے لاہور آنے پر مجھے بڑا تعجب ہوا۔اس نے ایک تو اور بات بیان کی اور ایک یہ کہی کہ احمد یہ ہوٹل کی آپ نے جو دعوت قبول کی اس وجہ سے تعجب ہوا۔یہ ایک ایسی بات تھی جس کے متعلق میں کوئی مزید بحث نہ کر سکتا تھا۔یہ ایک فقرہ تھا جو ایک شخص کے منہ سے نکلا۔ممکن ہے بے سوچے سمجھے نکلا ہو اور ممکن ہے اس نے جان بوجھ کر کہا ہو۔اور ممکن ہے وہ چاہتا ہو کہ آگے بات چھڑے۔مگر میں نے مناسب نہ سمجھا کہ بات کو چھیڑوں۔میرے لئے یہ فقرہ اس لئے تکلیف دہ ہوا کہ اس نے ہمارے نوجوانوں سے متعلق کوئی بدظنی کی۔میں اس بدظنی کی تعیین نہیں کرنا چاہتا۔ہزاروں قسم کی بدظنیاں ہو سکتی ہیں۔اس لئے میں اسے جانے دیتا ہوں کہ کس چیز نے اس سے یہ فقرہ کہلوایا۔لیکن یہ میں ضرور کہوں گا کہ کوئی بُری بات ہی تھی جو اس کے لئے اس فقرہ کے کہنے کی محرک ہوئی۔ممکن ہے جو نو جوان یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے بعض اس شخص کا مطلب سمجھتے ہوں لیکن میں نے نہیں سمجھا اور میں نہیں سمجھنا چاہتا۔اس لئے کہ میں سمجھتا ہوں اس کا جو بھی مفہوم تھاوہ غلط فہمی یا غلطی یا دانستہ اتہام پر مبنی تھا اور میں ایسی بات سننا پسند نہیں کرتا۔میں نے جماعت کے بڑوں اور چھوٹوں کو دیکھا۔نو جوانوں اور بوڑھوں کو دیکھا۔بچوں اور