زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 377

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 377 جلد اول کرے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسے ملک کے لوگ جو مدت سے دوسروں کی غلامی میں جکڑے ہوں اور جس کے باشندوں کو کم حوصلہ اور کم ہمت کہا جاتا ہے اسی ملک کے لوگوں میں سے کچھ لوگ نکل کر اپنی عمر کے ابتدائی ایام میں اور ایسی حالت میں کہ کوئی خاص تعلیم انہوں نے حاصل نہ کی ، کیونکہ بی اے۔ایم اے یا مولوی فاضل سینکڑوں چھوٹی چھوٹی ملازمتوں کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا میں نے پڑھا تھا بمبئی کے علاقہ میں گرد اور کی جگہ خالی ہوئی تو کئی گریجوایٹوں نے اپنی درخواستیں بھیج دیں۔اسی طرح مولوی فاضل مدرسوں میں کام کرتے اور معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔اتنی معمولی حیثیت کہ دوسرے مدرس بھی انہیں کوئی وقعت نہیں دیتے۔پس ہمارے مبلغ اگر بی اے یا ایم اے یا مولوی فاضل تھے تو یہ کوئی خاص حیثیت نہیں جو ان کو حاصل تھی۔ہزاروں بڑی بڑی ڈگریوں والے بیکار بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ بھی مفید ثابت نہیں کر سکتے۔اور ہزاروں میں سے چند کو تجربہ کے بعد کوئی خاص کام کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن یہ احمدیت کی صداقت کا نشان ہے کہ ہماری جو کچھی پودنکلی جسے باہر کے ممالک کا تجربہ تو الگ رہا اپنے ملک کا بھی تجربہ نہ تھا اس نے بھی ایسے ممالک میں جا کر وہاں کے لوگوں کو قائل کیا جو ہمارے ملک کے فہیم سے فہیم آدمی کو بھی اپنے معمولی آدمی سے ادنی سمجھتے ہیں۔پس ہمارے مبلغین کی کامیابی دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی کامیابی ہے۔سماٹرا ہی کو دیکھ لو۔ڈچ نے کئی سو سال سے ان لوگوں پر حکومت کرنے کے باوجود اپنے متعلق ان میں کوئی ہمدردی نہ پیدا کی۔لیکن ہمارا مبلغ جاتا ہے اور بالکل بے سروسامانی کی حالت میں جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ اعلیٰ طبقہ کو قائل کرنے کی کامیابی اسے عطا کر دیتا ہے۔یہ صاحب جو یہاں آئے ہیں وہاں مسلمانوں کی سب سے بڑی انجمن کے پریذیڈنٹ تھے۔اعلیٰ درجہ کے تاجر ہیں۔لاکھوں کی تجارت کرتے ہیں۔ان کے علاوہ بھی کئی لوگ ہیں۔یہ جو دوسرے صاحب ہیں وہ اس سب سے اعلیٰ عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں جو کسی سماٹری کو وہاں مل سکتا ہے۔تو ممتاز ترین لوگوں کی جماعت ہمارے مبلغ کے ہاتھ آئی اور انہوں نے