زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 376
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 376 جلد اول ماسٹر محمد دین صاحب، ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر۔ان کے سوا باقی اس قسم کے ہیں جنہیں باہر کا تجربہ نہ تھا۔جیسے چودھری فتح محمد صاحب، ملک غلام فرید صاحب ، صوفی عبد القدیر صاحب، ہمارے صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی ، مولوی جلال الدین صاحب، مولوی رحمت علی صاحب۔اس میں شبہ نہیں ان میں سے بعض نے مدرسیاں یا بعض اور کام شروع کی کئے مگر وہ کسی ذمہ داری کے کام پر متعین نہ تھے مگر کس قدر خوشی کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ انہیں تجربہ نہ تھا اور ان کی عمریں کچی تھیں مگر ہر میدان میں اور ہر ملک میں خدا تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا کی۔ہمارے حکیم فضل الرحمن صاحب افریقہ گئے اور ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر جیسے جہاں دیدہ اور تجربہ کار مبلغ کے بعد گئے۔مگر خدا تعالیٰ نے انہیں خوب کامیابی عطا کی۔مشن کو پہلے سے زیادہ انہوں نے مضبوط بنایا۔اسی طرح چودھری فتح محمد صاحب نے اس ملک میں مشن قائم کیا جس میں احمدیت کو زہر قرار دیا گیا تھا۔اسی طرح صوفی مطیع الرحمن صاحب ہیں۔گو انہوں نے ابتدا میں کچھ گھبراہٹ ظاہر کی مگر اب میں دیکھ رہا ہوں تبلیغ میں نہایت کامیابی سے کام کر رہے ہیں اور قریباً ہر ہفتہ ان کے ذریعہ بیعت کرنے والوں کے خطوط آ رہے ہیں۔انہوں نے کئی مختلف شہروں میں جماعت قائم کی ہے۔اور زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی جو ہزاروں کی تعداد میں وہاں رہتے ہیں ان میں سے کئی ایک نے بیعت کی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر یہ لوگ بکثرت احمدی ہو جائیں تو تبلیغ میں بہت مددمل سکتی ہے۔اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب اور مولوی رحمت علی صاحب ہیں۔ان کو بھی خدا کے فضل سے اچھی کامیابی ہوئی۔یہ تو وہ مبلغ ہیں جنہیں اپنے طور پر کام کرنے کا موقع ملا اور ان کا کام نمایاں طور پر سامنے آ گیا۔ان کے علاوہ وہ مبلغ جنہوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کیا ان کا کام گو اس طرح سامنے نہ آیا مگر انہیں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔جیسے ملک غلام فرید صاحب اور صوفی عبد القدیر صاحب جنہوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کیا اور اچھا کام کیا۔میں سمجھتا ہوں ہمارے مبلغوں کی کامیابی ایک بہت بڑا نشان ہے ہر ایک شخص کے لئے جو احمدیت کے متعلق غور