زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 353
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 353 جلد اول خمیازہ بھگتنا چاہئے۔یہ بہت بڑا نقص ہے کہ کام کرنے والے اپنے کام کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔میرا اپنا اندازہ یہی ہے کہ اگر ان رپورٹوں سے جو مبلغین کی الفضل میں شائع ہوتی ہیں ہمارے مبلغین کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے تمام مشنوں پر تین چار ہزار روپیہ سے زیادہ خرچ نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے مشن کئی ایک مقامات پر ہیں اور وہاں کام کرنے والے بڑی بڑی قربانیاں کر رہے ہیں لیکن اخبارات میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔سماٹرا کے مبلغ کو دیکھ لو۔اس کی ذاتی حیثیت سے ہم بخوبی واقف ہیں۔بے شک وہ استاد تھا مگر دراصل طالب علم ہی تھا لیکن اس کے کام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔اس کی کوشش سے بعض لکھ پتی اور بڑے بڑے گورنمنٹ آفیشل جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ کثرت کار اور محنت کے باعث اپنی صحت کھو چکا ہے۔اور اب ایسا بیمار ہے کہ اکیلا کہیں جا آ نہیں سکتا۔لیکن اسے گزارہ کے لئے نہایت قلیل رقم ملتی ہے جس پر وہ بسر اوقات کر رہا ہے۔مگر احباب جماعت اس کی ان قربانیوں سے قطعاً واقف نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ایسے لوگوں میں رہ کر جن کی زبان ، اخلاق اور عادات سے ناواقفیت ہو اور ایسے مخالفین کے مقابل میں جو معمولی باتوں پر قتل کر دیتے اور فوراً چھرے نکال لیتے ہیں ہمارا ایک آدمی کس جرات اور استقلال اور خود فراموشی سے کام کر رہا ہے۔شاید اگر کوئی کہہ دے کہ وہ وہاں بیکا رہی بیٹھا ہے تو نوے فیصدی جماعتیں اس بات کو صحیح مان لیں اور کہنے لگ جائیں کہ روپیہ ضائع ہو رہا ہے اور اسے وہاں رکھنا بڑی غلطی ہے۔لیکن اگر انہیں معلوم ہو کہ وہاں پر وہ کیا کام کر رہا ہے اور اگر ہمارا ایک ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے تو پچاس ہزار کا کام ہو رہا ہے تو وہ بہت زیادہ جوش سے اس مبلغ کے لئے دعائیں کریں گے۔اسی طرح ماریشس میں بھی ہماری جماعت سے سخت مقابلہ ہوا۔وہاں جماعت کے ہاتھ سے جائیداد میں نکل گئیں۔ایک مسجد جس پر انہوں نے بہت سا روپیہ خرچ کیا تھا ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔لیکن انہوں نے پھر ہزاروں روپے خرچ کر کے مکان خریدے اور