زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 354
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 354 جلد اول مساجد بنائیں۔لیکن اگر جماعت کے لوگوں سے پوچھا جائے تو وہ سوائے اس کے کچھ نہیں جانتے کہ وہاں ایک جماعت ہے اور صوفی غلام محمد صاحب سالہا سال تک وہاں کام کرتے رہے ہیں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ جس طرح مولوی جلال الدین صاحب مجھے خط لکھنے کے ساتھ ایک خط اخبار والوں کو بھی لکھ دیتے ہیں اگر دوسرے مبلغین بھی کوشش کریں تو وہ کیوں نہیں لکھ سکتے۔سماٹرا کے متعلق تو میں سمجھتا ہوں وہاں بہت زیادہ کام ہے اس لئے وہاں کے مبلغ کو اس قدر فرصت ہی نہیں مل سکتی ہے لیکن دوسرے مشن بڑی آسانی سے اطلاع دے سکتے ہیں۔لندن مشن اطلاع دے سکتا ہے خواہ وہ مختصر ہی ہو لیکن جب کوئی اطلاعات نہیں دیتے جائیں تو ایسے حالات میں اگر لوگوں کے دلوں میں بدظنی پیدا ہو تو وہ معذور ہیں۔اور اگر اعتراض ہوں تو مشنری کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے کیوں اعتراض ہوتے ہیں کیونکہ یہ سب ان کے غلط انکسار کا نتیجہ ہے۔اور یہ دراصل لغوی معنوں میں انکسار ہے جو ٹوٹ جانا ہیں۔اگر وہ خود اس اصول پر کار بند نہ ہوتے تو پھر اعتراضات ہی کیوں ہوتے۔اسی | طرح محکمہ والوں کا نقص بھی ہے۔اخبار والے ہمیشہ شکائتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی جاتی اور جو کچھ اخبارات میں چھپتا ہے وہ بھی اصل سے بہت کم ہوتا ہے۔ہر شخص صحیح صورت حالات سے واقف نہیں ہوتا۔مثلاً انگلستان کے متعلق اگر کوئی کہے کہ فلاں رئیس سے ہم نے ملاقات کی یا وہ ہمارے مکان پر آیا تو ہمارے ملک میں اسے کوئی وقعت نہیں دی جائے گی۔یا اگر ولایت کا مبلغ کہے کہ میں فلاں لارڈ سے ملا تو ہندوستانی اسے معمولی بات سمجھیں گے۔لیکن جو شخص وہاں کے حالات سے واقف ہو اور جانتا ہو کہ وہاں کے لوگ کس طرح اجنبیوں سے ملنے سے بچتے ہیں اور وہاں کسی سے ملاقات کتنی مشکل ہے تو وہ اسے ضرور اہم قرار دے گا۔وہاں لوگوں کا یہ حال ہے اور وہ اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ سینکڑوں خطوط جو ان کے نام آتے ہیں انہیں وہ پڑھ بھی نہیں سکتے۔پس ایسی قوم کے افراد سے جو اس قدر مشغول رہتی ہے خواہ ان کی مشغولیت کسی سبب سے