زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 352
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 352 جلد اول اطلاع دے دیتے۔لیکن میرا خیال ہے اگر پہلے تعلقات بھی ہوتے تو بھی حالات ایسے تھے کہ وہ یقیناً اطلاع نہ دیتے لیکن اس صورت میں کوئی شکوہ بھی پیدا نہ ہوتا۔کیونکہ شکوہ زیادہ تر اسی جگہ پیدا ہوتا ہے جہاں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھا نہ جا سکے۔ان کے سب رشتہ دار یہاں موجود تھے۔جس شخص کا کوئی رشتہ دار یہاں موجود نہ ہوا سے اطلاع دینے کا تو بے شک ناظر کو خیال پیدا ہو سکتا ہے لیکن جس کے تمام رشتہ دار یہاں موجود ہوں اس کے متعلق کیسے خیال ہو سکتا ہے۔جب تمام اقرباء موجود ہوں تو ناظر یہ خیال ہی کیسے کر سکتا ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اطلاع نہ دی ہوگی۔اور پھر جب باپ، بھائی، خسر اور دوسرے ایسے ہی قریبی ایسی اطلاع نہ پہنچائیں تو یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ دوسرے لوگ ضرور پہنچا دیں گے۔بات یہ ہے کہ جہاں تعلقات گہرے ہوں وہاں اتنا شکوہ نہیں ہوتا۔اس لئے میں دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ باہر کام کر رہے ہیں ان سے ضرور خط و کتابت کیا کریں اور خطوط ناصحانہ رنگ کی بجائے محبت آمیز لہجہ میں لکھے جائیں۔اس کے علاوہ میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے جو دوست باہر سلسلہ کی خدمات کرتے ہیں ان کے کاموں کو اس رنگ میں نہیں دیکھا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس نقص کے لئے دونوں ذمہ دار ہیں۔کارکن بھی اور کام لینے والے بھی۔کام کرنے والوں میں تو یہ نقص ہے کہ وہ اپنے اندر ایسا انکسار محسوس کرتے ہیں جو دراصل ان میں ہوتا نہیں اور وہ اخلاق کا ایسا بلند نمونہ دکھانا چاہتے ہیں جو دراصل ان میں پایا نہیں جاتا۔وہ اس الزام کو دور کرنے کے لئے کہ وہ نکھے بیٹھے ہیں کوئی کوشش نہیں کرتے اور اپنے کام کو نمایاں کر کے پبلک میں لانے کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔لیکن جب اعتراض ہوتے ہیں تو پھر دل ہی دل میں کڑھتے ہیں اور اس بات سے تکلیف محسوس کرتے ہیں کہ ہماری قربانیوں کو نظر انداز کر کے اعتراض کئے جاتے ہیں حالانکہ جب انہوں نے اپنے کام کو خود چھپایا تو لوگوں کو کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔جب انہوں نے خود اپنے لئے ایک رستہ تجویز کیا تو پھر اس کا