زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 335

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 335 جلد اول مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے کے اعزاز میں دعوت 11 ستمبر 1928ء تعلیم الاسلام ہائی سکول اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف سے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے باغ میں مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کے اعزاز میں ایک ٹی پارٹی دی گئی جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور کی تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا۔” جب تک ہماری جماعت ان لوگوں کی قدر کرتی رہے گی جو دین کی خاطر قربانیاں کرتے ہیں اُس وقت تک اس کا کام ترقی کرتا جائے گا اور نتیجہ خیز اور بابرکت ہوگا۔کیونکہ قربانی دراصل اپنی ذات میں ایک نعمت الہی ہے۔در حقیقت کوئی انسان قربانی کر ہی نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے توفیق حاصل نہ ہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں قربانی انسان خود کرتا ہے حالانکہ قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قربانی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہے اور جو قربانی انسان کے اپنے نفس سے پیدا ہوتی ہے وہ دراصل قربانی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 تو کہہ دے کہ میری عبادت، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے ہی لئے ہے۔پھر قرآن میں ہم یہ بھی پڑھتے ہیں لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 2 یعنی رسول کریم ﷺ ہمارے لئے نمونہ ہیں۔پس جب رسول کریم کی قربانی رب العالمین کے لئے ہے تو قربانی وہی کہلا سکتی ہے جو آپ کے نمونہ کے مطابق ہو۔لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے معنے صرف یہی نہیں کہ قربانی خدا کی خاطر ہے بلکہ یہ بھی ہیں