زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 336
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 336 جلد اول کہ خدا ہی اس کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔یہاں ”ل ملک کے لئے آیا ہے اور میں نے اس وقت اس کے یہی معنے لئے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے میری نمازیں خدا نے ہی مجھ سے ادا کروائی ہیں۔میری قربانی خدا تعالیٰ نے ہی کروائی ہے۔زندگی بھی اسی کی طرف سے ہے۔اور میری موت بھی میں نے خود پیدا نہیں کی بلکہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔پس قربانی وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور جو خدا کی طرف سے آئے وہ نعمت ہے۔اور نعمت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لہن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَ نَكُمْ 3 پس جب تک ہماری جماعت میں یہ احساس رہے گا کہ جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سلسلہ کی خدمت کی توفیق دے ان کی قدر کریں سلسلہ ترقی کرتا جائے گا۔اور جب یہ قدرمٹ جائے گی یہ نعمت بھی چھن جائے گی۔پس قومی ترقی کے لئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ ان لوگوں کے کام کی قدر کی جائے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی خدمت کا موقع دیا۔ضرورت ہے کہ ہماری جماعت یہ محسوس کرے کہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ بعض لوگوں کو خدمت کی توفیق ملے۔میں اس وقت ملک صاحب کے جواب کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دو باتیں کہنی چاہتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ انکسارا اپنی ذات میں بہت اچھی چیز ہے اگر ہم واقعی یہ احساس رکھتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ، جو کچھ ظاہر ہوا سب خدا کی طرف سے ہے تو ہم ایسے رستے پر گامزن ہیں کہ ہمیشہ خدا کی مدد اور نصرت ہمارے شامل حال رہے گی۔لیکن انکسار تین قسم کا ہوتا ہے۔دو قسمیں انکسار کی بری ہوتی ہیں اور ایک اچھی۔اگر ایک شخص وثوق سے یہ یقین رکھتا ہے کہ میں کچھ چیز نہیں ہوں جو کچھ کام ہورہا ہے یہ سب خدا کا فضل ہے تو یہ انکسار خدا کی نصرت کا موجب ہوتا ہے۔لیکن ایک انکسار یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے کام کے متعلق نہیں بلکہ اصل کام کے متعلق ہی بدظنی ہو جاتی ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا اور یہ خطر ناک قسم کا انکسار ہے۔اپنے کام کے متعلق تو یہ خیال کرنا کہ میری کوشش سے نہیں ہوا بلکہ خدا کے فضل سے ہوا بے شک خوبی ہے۔لیکن کام کے متعلق یہ سمجھ لینا کہ مجھ سے نہیں ہو سکتا