زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 322
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 322 جلد اول احمدیہ کے طلباء جنہوں نے زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں انہوں نے اس عرصہ میں یاد نہیں دلا یا۔بلکہ ان میں سے کئی نے اپنے لئے اور مستقل کام تجویز کر لئے ہیں۔میں یہ ملامت کے طور پر نہیں کہ رہا بلکہ جذبہ غیرت کو ابھارنے کے لئے کہہ رہا ہوں۔رسول کریم ہے اس غرض کے لئے مقابلہ کرا دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ صحابہ تیراندازی کر رہے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لو میں بھی شریک ہوتا ہوں اور آپ ایک فریق میں شامل ہو گئے۔اس پر دوسرے فریق نے یہ کہہ کر تیر ڈال دیئے کہ ہم آپ کا کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں 2 میرا اس وقت یہ مطلب نہیں کہ میں کسی کو ملامت کروں تم میں سے کئی ایسے ہیں جو اچھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں مگر میں کہتا ہوں انسان کو اپنا سر بلند رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ جو اس کے ساتھ کام کر رہے ہوں ان سے پیچھے نہ رہے۔خصوصاً اس مدرسہ کے طلباء کے لئے نہایت ضروری ہے جس کی غرض ہی یہ ہے کہ مبلغ تیار ہوں۔میں اس بارے میں اعلان کرنے سے پہلے اس مدرسہ کے طلباء کو مطلع کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو دینی خدمت کے لئے وقف کریں۔گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں زندگی وقف کرنے والوں کے لئے اعلان کرنے والا تھا مگر گھر سے چلتے وقت ایک اور بات میرے سامنے پیش ہو گئی اور اس وجہ سے میں نے خطبہ کا مضمون بدل دیا۔اس وقت میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اور آدمیوں کی ضرورت ہے۔جنہوں نے پہلے اپنے آپ کو پیش کیا تھا مگر انہیں کسی خدمت پر نہیں لگایا گیا وہ یا اور جواب پیش کرنا چاہیں وہ متعلقہ دفتر میں اپنے نام دے دیں۔آگے یہ کام لینے والوں کا کام ہے کہ جسے چاہیں لے لیں۔بعض لوگ جو کام پر لگے ہوئے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں۔یہ بھی مبارک بات ہے مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے نئے بیعت کرنے والوں کے ساتھ دوسرے بھی بیعت کے لئے ہاتھ رکھ دیں۔ضرورت ان نوجوانوں کی ہے جو تعلیم سے فارغ ہو رہے ہیں۔اس طرح آپ لوگوں کو پہلے موقع مل گیا ہے اور آپ کے مدرسہ کی غرض بھی یہی ہے کہ دین کی خدمت کرنے والے پیدا ہوں۔