زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 323

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 323 جلد اول گو میں مدرسہ ہائی کا طالب علم ہوں اس لئے مجھے قدرتی طور پر اس مدرسہ سے لگاؤ ہے مگر مدرسہ احمدیہ کو قائم رکھنے والا میں ہی ہوں۔ہمارے پرانے دوست جنہیں میں تو اب بھی دوست ہی سمجھتا ہوں گو وہ اپنے آپ کو دشمن قرار دیتے ہیں انہوں نے اس امر کی کوشش کی کہ اس مدرسہ کو توڑ دیں۔اُس وقت صرف میں ہی تھا جس نے کوشش کی کہ یہ مدرسہ قائم رہے اور خدا تعالیٰ نے میری بات میں اثر ڈالا۔اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی جبکہ خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے تقریریں کر کے لوگوں کو اس بات کے لئے آمادہ کر لیا کہ مدرسہ احمدیہ تو ڑ دیا جائے۔میں نے اُس وقت تقریر کرتے ہوئے کہا بے شک اس مدرسہ کو توڑ دیا جائے مگر سوال یہ ہے کہ اس مدرسہ کو حضرت مسیح موعود نے قائم کیا ہے۔پھر کیا آپ کی وفات کے بعد ہمیں یہی کام کرنا چاہئے کہ آپ کا قائم کیا ہوا مدرسہ توڑ دیں؟ رسول کریم ﷺ کے وقت ایک لشکر بھیجنا تجویز ہوا تھا مگر وہ ابھی روانہ نہ ہوا تھا کہ آپ کی وفات ہو گئی۔اُس وقت لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اب اس لشکر کو روک لیا جائے تاکہ منافقوں نے جو شر پیدا کیا ہے اسے روکا جا سکے۔مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ابو قحافہ کا بیٹا اس لشکر کو نہیں روک سکتا جسے رسول کریم ﷺ نے بھیجا تجویز کیا تھا۔3 پس کیا ہمارے لئے یہ مناسب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات کے بعد پہلا کام یہ کریں کہ آپ کا قائم کردہ مدرسہ توڑ دیں؟ میری یہ تقریر مختصر سی تھی لیکن اسے سن کر سب لوگ توڑنے کے خلاف ہو گئے۔یہ دیکھ کر خواجہ صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ غلط فہمی ہو گئی ہے ہمارا بھی یہی منشا تھا جو میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔پھر باہر چٹھیاں بھیجی گئیں اور اس طرح لوگوں کو اس مدرسہ کے توڑنے کے لئے تیار کرنا چاہا مگر خدا تعالیٰ نے میری تقریر کے ذریعہ جو بات ان کے دل میں ڈال دی تھی اسے نہ نکال سکے۔اس طرح میں اس مدرسہ کا قائم رکھنے کا موجب ہوا۔گو مجھے یاد آیا ہے کہ مدرسہ انگریزی کے قیام کا موجب بھی میں ہی ہوا۔1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ اس مدرسہ کو قائم کرنے