زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 321

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 321 جلد اول مد نظر رکھنا چاہئے کہ ہم اس خوشی میں کس حد تک حصہ دار ہیں۔میرے نزدیک اگر کوئی سمندر میں عمدگی سے تیر رہا ہو تو ہمیں کنارے پر بیٹھے اس کی تعریف کرنے پر مزا تو آتا ہے مگر میں نہیں سمجھتا یہ شریفانہ مزا ہے جب تک ہم خود اسی طرح تیرنے کی خواہش نہیں رکھتے اور تیرنا سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔میں اس وقت ان بچوں سے جنہوں نے ایڈریس دیا ہے کہتا ہوں کہ جب تک وہ اپنی زندگی اور اپنے ارادوں میں ایسا تغیر نہیں دکھاتے جس سے معلوم ہو کہ وہ حقیقی طور پر اس خوشی میں شریک ہیں اُس وقت تک کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ خانصاحب کے تبلیغ کے لئے جانے پر انہیں حقیقی خوشی ہوئی ہے۔جب تک خودان میں یہ خواہش نہ ہو کہ اسی طرح وہ بھی تبلیغ کے لئے جائیں اُس وقت تک ان کی خوشی حقیقی نہیں کہلا سکتی۔سچی خوشی کی یہی نشانی ہے کہ جس بات پر انسان خوش ہو اس کے متعلق اس کے دل میں یہ خواہش بھی ہو کہ یہی نعمت اسے بھی ملے جبکہ اس کا موقع ہو اور جب اس کا ملنا مناسب ہو۔اس وقت میں وقت کی تنگی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میں دیکھ رہا ہوں سورج ڈوب رہا ہے یہی تحریک کرتا ہوں کہ ہمارے بچوں کو خود اس نعمت کو حاصل کرنے کی خواہش رکھنی چاہئے جو مبلغوں کو حاصل ہو رہی ہے۔میں نے کچھ عرصہ کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کو بند کر دیا تھا کیونکہ وقف کنندگان کی تعداد حالات کے لحاظ سے کافی ہو گئی تھی مگر اب پھر ضرورت پیدا ہو رہی ہے۔ہم انگریزی دانوں کی نسبت عربی دانوں سے زیادہ توقع رکھتے ہیں۔گو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے دنوں جب وقف کی تحریک بند کر دی گئی تو کئی انگریزی دانوں کی طرف سے تو یہ تحریک ہوتی رہی کہ ہم نے زندگی وقف کی ہوئی ہے ہمیں کسی کام پر لگایا جائے۔چنانچہ اسی کا نفرنس کے موقع پر بھی دو اصحاب نے کہا کہ ہم اس وقت تک اپنا کام کر رہے ہیں۔اور جہاں ملازمت کرتے ہیں اس محکمہ والے معاہدہ طلب کرتے ہیں اور معاہدہ نہ کرنے میں نقصان ہو رہا ہے۔مگر ہم اس خیال سے معاہدہ نہیں کرتے کہ ہم نے اپنی زندگی دینی خدمت کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔مگر مدرسہ