زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 287
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 287 جلد اول اس کے بعد میں کچھ اور باتیں اس جواب کے متعلق کہنا چاہتا ہوں جو ماسٹر صاحب نے ایڈریسوں کا دیا ہے۔میں نہایت حیران ہوا یہ بات سن کر کہ ایڈریس میں کسی موقع پر یہ کہا گیا ہے کہ مغربی لوگ اس قسم کے مردہ ہو گئے یا انسانیت سے خارج ہو گئے ہیں کہ مذہب اور روحانیت کی کوئی بات ان کے قلوب پر اثر نہیں کر سکتی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور ہندوستان کے لوگوں کو میں نے دیکھا ہے وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں۔میں نے جب بھی یہ آواز اٹھتی دیکھی یا اپنے ان مشنریوں سے یا ان لوگوں سے جو مغرب میں رہے یہ شکایت سنی کہ ہمارے ہندوستانی بھائی بہت جلدی خیالی جنت بنا کر اس خوشی میں مست ہو جاتے ہیں کہ یورپ میں ہزار ہا اعلیٰ درجہ کے متقی، پرہیز گار، زکوۃ اور چندہ دینے والے، نمازیں پڑھنے والے نو مسلم موجود ہیں۔وہ اس قسم کی خیالی عمارت کھڑی کر لیتے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں یورپین لوگوں کو مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے اور خدائے واحد کے آگے سجدہ کرتے دیکھتے ہیں۔مگر یہ خیال نہیں کرنا چاہئے۔غرض میں نے مبلغین کی تحریروں اور زبانوں سے یا ان لوگوں کے مونہوں سے جو مغرب میں رہے اور جنہیں مغربی لوگوں سے معاملہ پڑا ہمیشہ اسی قسم کے مایوسانہ کلمات سنے۔اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں ایڈریس دینے والوں نے یہ نئی بات کہی ہے اور ماسٹر صاحب کو اہل مغرب کے متعلق غلطی لگی ہے۔جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں مذہبی آدمی موجود ہیں مجھے ہمیشہ ہندوستانی بھائیوں کے خیالی جنت کو توڑنے اور مغرب سے آنے والے لوگوں کی خیالی مایوسی کو توڑنے کی کوشش کرنی پڑی ہے۔اور میں دونوں کو وسطی طریق اختیار کرنے کے لئے کہتا رہا ہوں۔ہندوستانیوں کو تو میں نے یہ بتایا کہ یہ مت خیال کرو وہاں کے نو مسلم تمہاری طرح کے مسلمان ہیں۔ابھی ان کی بالکل ابتدائی حالت ہے۔اور مبلغین اور دوسرے مغرب سے آنے والوں کو یہ بتایا کہ تم ان لوگوں کی طرف سے مایوس نہ ہو ان کی آہستہ آہستہ اصلاح ہوگی۔وہ بعض ایسی رسوم کے پابند ہیں جنہیں اس وقت تک نہیں چھوڑ سکتے