زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 288

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 288 جلد اول جب تک ان کے اردگردان رسوم کو چھوڑنے والی جماعت نہ پیدا ہو جائے۔کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے کرنے کے لئے دوسروں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔اکیلا انسان انہیں سرانجام نہیں دے سکتا۔ہمیشہ جب کبھی احمدی مغرب سے واپس آئے ان میں سے 90 فیصدی ایسے تھے جو مجھے کہتے کان میں ایک ضروری بات کہنی ہے اور جب میں کہتا بتاؤ کیا بات ہے تو وہ یہی کہتے کہ ولایت میں تبلیغ پر جو روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے وہ ضائع ہو رہا ہے۔اگر وہاں مشن رکھنا ہی ہے تو ایک آدھ آدمی کو رکھ دیا جائے جو کچھ اور کام بھی ساتھ کرتا رہے اور مشن کو بھی قائم رکھے۔یہ سن کر مجھے اس شخص کو سمجھانا پڑتا کہ ہر کام کی اہمیت کے مقابلہ میں اس کے اخراجات کو دیکھنا چاہئے اور جتنا بڑا کوئی کام ہو اتنی ہی بڑی رکاوٹیں اس کے کرنے میں حائل ہوتی ہیں۔جب تک ان روکوں اور مشکلات کو مدنظر نہ رکھا جائے اس کام کے نتائج محسوس نہیں کئے جاسکتے۔چنانچہ سب سے پہلی ٹی پارٹی جو ماسٹر صاحب کو ہائی سکول کے اولڈ بوائز کی طرف سے دی گئی اس میں میں نے یہی بتایا تھا کہ اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ ہمارے کام میں وہاں جس قدر مشکلات ہیں وہ ان مشکلات سے زیادہ نہیں جو عیسائیوں کو عیسائیت کی اشاعت میں یہاں ہندوستان میں درپیش ہیں۔مگر وہ ہمت نہیں ہارتے اور استقلال سے کام کرتے چلے جاتے ہیں حالانکہ ان کو ہم سے زیادہ روپیہ خرچ کر کے اور زیادہ آدمیوں سے کام لے کر جو نتائج حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے نتائج کی نسبت بہت ہی کم ہیں۔جن لوگوں کو وہ یہاں عیسائی بناتے ہیں وہ ہماری کوششوں کی نسبت سے تعداد کے علاوہ اپنی حالت میں تغیر پیدا کرنے کے لحاظ سے بھی ان لوگوں سے کم درجہ پر ہیں جو یورپ میں مسلمان ہوتے ہیں۔در حقیقت سچی بات وسطی ہے۔باقی جو خیال کئے جاتے ہیں وہ اپنے اپنے رنگ میں اشاعت مذہب کی تڑپ کا نتیجہ ہیں۔ہر شخص اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ یورپ مادیات میں مبتلا ہے۔مگر وہاں ایک مذہب نکلا ہے جو ان کے لئے نیا ہے مگر ہمارے لئے نہیں۔کیونکہ ہمارے پاس بہت پہلے