زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 286

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 286 جلد اول جو کا مستحق ہوں مگر میں صفائی سے کہہ دوں امریکہ کے مشن کو جس طرح مجھے لیڈ (Lead) کرنا چاہئے تھا میں نہیں کر سکا۔ایسی حالت میں اگر وہاں کامیابی ہوئی ہے تو اس کے مستحق وہ مبلغ ہیں جنہوں نے وہاں کام کیا۔اور اگر نا کامی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر پڑتی ہے کہ کیوں میں نے ان لوگوں کی راہنمائی نہ کی۔انگلستان کے مشن کو پہلے سے اور اب کچھ عرصہ سے مصر اور شام کے مبلغوں کو میں نے ہدایات دینی شروع کی ہیں مگر امریکہ کے متعلق یا تو یہ کہ دوسرے کاموں کی وجہ سے فرصت نہیں پائی یا یہ کہ وہاں کے حالات سے واقفیت نہیں تھی کہ اس مشن کو لیڈ کر سکوں اس لئے جو ہفتہ واری چٹھی دوسرے مبلغوں کو بھیجی جاتی ہے وہ وہاں نہیں بھیجی گئی۔گو کبھی کبھی وہاں بھی خط لکھتا رہا ہوں مگر با قاعدہ نہیں اور اس طرح نہیں کہ میں نے ان کے کام کا پروگرام بنانے میں حصہ لیا ہو۔میں سمجھتا ہوں باوجود اس کے کہ میں قادیان میں ہوں اور میں نے امریکہ نہیں دیکھا مگر اس علم کے ساتھ و اس شخص کو ملتا ہے جس پر خدا تعالیٰ کوئی ذمہ داری رکھتا ہے امریکن مشن کی محفوظ طریق پر یہاں بیٹھے بھی راہنمائی کر سکتا ہوں۔گوسفر یورپ کے اس تجربہ سے جو ممکن ہے بعض کے نزد یک قلت وقت کی وجہ سے تجربہ کہلانے کا ہی مستحق نہ ہو میری اس رائے میں جو پہلے سے میں یورپ کے متعلق رکھتا تھا کوئی تغیر پیدا نہیں کیا۔مگر اس سے اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پہلے جو باتیں میں اپنے اندرونی علم کی بناء پر کہتا تھا اور مبلغ ان کی تصدیق نہ کرتے تھے اب میں وہی باتیں واقعات کی بناء پر کہتا اور مبلغوں کو قائل کر سکتا ہوں اور انگلستان کا کی موجودہ مشن کلی طور پر میری ہدایات پر کام کر رہا ہے۔میں نے وہاں کام کرنے والوں سے کہہ دیا ہے خدا نخواستہ کوئی نقصان ہوا تو اس کا میں ذمہ وار ہوں گا۔تمہارا کام صرف ان ہدایات کی پابندی ہے جو تمہیں اس کام کے لئے دی جائیں۔مگر امریکہ کے متعلق یہ طریق اختیار نہیں کیا گیا اور نہ اب اختیار کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ وہاں اب کوئی باقاعدہ مبلغ نہیں رکھا گیا اور نہ کچھ عرصہ تک ارادہ ہے کہ رکھا جائے اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ اس طریق کو وہاں کے لئے اختیار کر سکتا ہوں یا نہیں۔