زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 276
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 276 جلد اول پھر ایڈریس میں ماسٹر محمد الدین صاحب کی ہجو ملیح بھی کی گئی ہے اور وہ یہ کہ وہ امریکہ میں تبلیغ نہیں کرتے رہے بلکہ لوگوں کو پڑھاتے رہے ہیں۔یہ بات اس طرح کہی گئی ہے گویا کہنے والے خود وہاں موجود تھے اور مجھے یہ بات معلوم نہ تھی جو اب بتائی گئی ہے۔دراصل اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلائے گئے ہیں۔اگر یہ بات صحیح بھی ہو کہ ماسٹر صاحب وہاں لوگوں کو پڑھاتے رہے ہیں تو یہ غلط ہے کہ انہوں نے کسی اور طریق سے تبلیغ نہیں کی۔اس کے بعد مجھے ماسٹر صاحب کی تقریر کی دو باتوں کی تشریح کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ایک تو انہوں نے یورپ کی رواداری کا ذکر کیا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جب کوئی یورپ میں جاتا ہے تو اس پر یہی اثر ہوتا ہے جو ماسٹر صاحب پر ہوا۔کیونکہ وہ لوگ بحث مباحثہ سے آگے نکل گئے ہیں۔یہ اچھی بات ہے اس کی نقل کرنی چاہئے۔مگر اس سے غلط نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے۔میں بتاتا ہوں کہ ہماری بحث اور یورپ کی رواداری میں کیا فرق ہے۔جب انسان سمجھتا ہے کہ خطرہ میں ہوں تو چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔چنانچہ یہ عام بات ہے کہ بیمار آدمی چڑ چڑے ہوتے ہیں۔وجہ یہ کہ وہ سمجھتے ہیں ہم تکلیف اٹھا رہے ہیں اور رشتہ دار ہماری فکر نہیں کرتے۔مگر تندرست آدمی ہشاش بشاش ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے میں خطرہ میں نہیں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر بحث کی ہے اور میں نے گزشتہ سالانہ جلسہ کے موقع پر یہ بات بیان کی ہے کہ اخلاق کی خوبی عقل اور قدرت کی وجہ سے ہوتی ہے یہی چیز جانوروں میں عقل کے ماتحت نہیں آتی بلکہ طبعی تقاضے کے ماتحت آتی ہے۔عام طور پر جتنے اخلاق نظر آتے ہیں ان کا اکثر حصہ انسانوں میں طبعی تقاضے کے ماتحت ہوتا ہے لیکن اس لئے کہ خدا نے انسان کو قدرت دی ہے اور ہم حسن ظنی کرتے ہیں کہ قوت فکر یہ سے کام لے کر انسان نے کام کیا ہے کہتے ہیں اس نے اخلاق سے کام لیا۔ور نہ اگر حقیقت میں لوگوں میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہو جائیں تو وہ روحانی انسان بن جائیں۔بات یہ ہے کہ ایشیا ترقی میں اس مقام پر نہیں پہنچا کہ یہاں کے لوگوں نے اپنے خیالات کی بناء تحقیق اور تدقیق پر رکھی ہو۔وہ سمجھتے ہیں ہمارے خیالات آبائی ہیں اور ذرا