زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 277

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 277 جلد اول ان پر مخالف روشنی پڑی تو ان کے نقائص ظاہر ہو جائیں گے۔لیکن قومی ، وطنی اور ورثے کا میلان انہیں مجبور کرتا ہے کہ ان خیالات کو چھوڑیں نہیں۔اس وجہ سے جب وہ کوئی ایسی بات سنتے ہیں جس کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ہمیں آبائی خیالات سے ہٹانے والی ہے تو اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس چونکہ عام طور پر ہمارے ملک کی مذہبی حالت فکر اور عقل کا نتیجہ نہیں بلکہ آبائی تقلید ہے اور لوگ دلوں میں محسوس کرتے ہیں گو زبانی اقرار نہ کریں اور ممکن ہے بعض دفعہ اپنے نفس میں بھی اقرار نہ کریں مگر بات یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہمارا عقیدہ ورثہ ہے۔جب اس پر روشنی پڑی تو ضروری ہے کہ ہم اس کے چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔اس احساس نے ان کو چڑ چڑا بنا دیا ہے۔لیکن یورپ کے لوگوں نے علمی ترقی سے اپنا پہلا مذ ہب باطل قرار دے دیا ہے اور اعمال اور اصول کو علیحدہ علیحدہ کر دیا ہے۔اس طرح انہوں نے اپنے لئے وسیع رستہ بنا لیا ہے کہ عیسائی بھی کہلائیں اور عیسائیت کی کسی بات پر عمل بھی نہ کریں۔انہوں نے اپنے تمدن کو توڑنے کے بغیر یہ تھیوری قائم کرلی ہے کہ کریڈ (Cread ) الگ چیز ہے اور دیلی جن الگ۔ریلی جن کے معنی تو ہیں قربانی اور محبت۔اور کریڈ یہ ہے کہ گر جا جاؤ، عبادت کرو اور احکام پر عمل کرو۔یہ باتیں اگر بدلتی جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔یورپ اور امریکہ کا عام مذہب یہی ہے۔اس تحقیق کے بعد چونکہ ان کے ذہن نشین یہ بات ہوگئی ہے کہ جو بات ہم نے دریافت کی ہے بالکل صحیح ہے اور بوجہ اپنے ظاہری غلبہ کے سمجھتے ہیں جس بات پر ہم پہنچے ہیں وہی صحیح ہے اسی لئے ساری دنیا کو ہم نے فتح کر لیا ہے اور دنیا ہماری نقل کر رہی ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنی جگہ سے ہٹانا ناممکن۔اور اس وجہ سے وہ چڑ چڑا پن نہیں دکھاتے۔اس کی مثال اس بلی کی سی ہے جو چوہے کو پکڑ کر چھوڑ دیتی اور اطمینان سے بیٹھ رہتی ہے۔اسے ہم با اخلاق نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جس وقت چاہوں گی چوہے کو پکڑ لوں گی وہ مجھ سے بیچ کر کہاں جا سکتا ہے اس وجہ سے وہ بے فکر ہو جاتی ہے۔پس اہل یورپ و امریکہ