زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 275
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 275 جلد اول مسیح موعود ہیں جوق بھی ادا نہیں کر سکتے۔پس میں یہ امید نہیں کر سکتا کہ کوئی بھی غلطی ہمارے مدرسہ احمدیہ کے طلباء نہ کریں کیونکہ تمام الفاظ کوئی عرب بھی صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا اور ہم بھی اردو کے تمام الفاظ صحیح طور پر نہیں بول سکتے۔مگر غلطی اتنی برداشت کی جاسکتی ہے جو دوسرے الفاظ میں چھپی ہوئی ہو۔اور سننے والوں کو گراں نہ گزرے۔مگر میں نے دیکھا ہے اس ایڈریس کے وہ الفاظ جن کو صحت کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت تھی ان میں سے 75 فیصدی غلط پڑھے گئے اور ایسے موقع پر پڑھے گئے جبکہ مولوی محمد اسماعیل صاحب مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔جن کے سامنے اگر کوئی غلط لفظ بولے تو مجلس میں ہی ٹوک دیتے ہیں۔میری زبان پر چند الفاظ غلط چڑھے ہوئے ہیں۔میں جب ان الفاظ میں سے کوئی بولنے لگتا ہوں تو دیکھ لیتا ہوں مولوی صاحب تو سامنے نہیں ہیں۔پس اس بات کی احتیاط ہونی چاہئے کہ لہجہ اور تلفظ صحیح ہو۔پھر مجھے ایڈریس کے مضمون پر بھی اعتراض ہے۔اس میں وہی طریق اختیار کیا گیا ہے جو آریوں اور عیسائیوں نے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں اختیار کر رکھا ہے حالانکہ یہ ہمارے سلسلہ کی خصوصیت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا احسان ہے کہ آپ نے ہمیں سکھایا ہے کہ کسی کی تعریف کے لئے ضروری نہیں کہ دوسروں کی مذمت کی جائے۔مگر اس ایڈریس میں ایسے الفاظ ہیں جن میں ماسٹر محمد الدین صاحب کے کام کی تعریف کرتے ہوئے دوسروں کی مذمت کی گئی ہے۔یہ خلاف تہذیب بات ہے۔یوں بھی طالب علموں کی کا یہ حق نہیں کہ بڑوں پر جرح کریں۔کجا یہ کہ علی الاعلان ان کی مذمت کریں۔اگر صرف یہ کہہ دیا جاتا کہ آپ کا کام اپنے زمانہ میں اچھا رہا اور دوسروں کے کام سے بڑھا کر نہ پیش کیا جاتا تو بھی بات پوری ہو سکتی تھی۔دوسروں کے زمانہ کا سوال ایسا ہے کہ پھر دوسرے بھی جواب دینے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ہر ایک کی تعریف کرنے والے کچھ نہ کچھ لوگ ہوتے ہیں اور جب کسی کی مذمت کرتے ہوئے دوسرے کی مدح کی جائے تو دوسرے اس کی مذمت پر اتر آتے ہیں۔