زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 274

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 274 جلد اول جب تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا فوج کے مارچ کرنے سے جو آواز پیدا ہورہی تھی اس کی لہر اور پل کی لہر مل گئی اور اس وجہ سے وہ ٹوٹ گیا ور نہ بوجھ کی وجہ سے وہ نہیں ٹوٹ سکتا تھا۔در اصل تمام کام لہروں پر چل رہے ہیں اور خاص کر جذبات سے ان کا بڑا تعلق ہوتا ہے۔شعر کی لہر جب قلوب کی لہر کے مطابق ہو جاتی ہے تو اس وقت لطف حاصل ہوتا ہے۔اول تو ہر شخص کی آواز اونچی ہو سکتی ہے۔یہاں ایک لڑکا فیروز دین ہوتا تھا جو فوت ہو گیا ہے۔اس کی آواز اونچی نہ تھی اس نے پہلے دن اذان دی تو میں نے منع کر دیا کہ اذان کی غرض تو لوگوں کو سنانا ہے جب لوگوں تک آواز نہیں پہنچتی تو یہ اذان نہ دیا کرے۔معلوم ہوتا ہے اس میں غیرت تھی اس نے باہر کھیتوں میں جا کر آواز بلند کرنے کی مشق کرنی شروع کی۔چند ہی ماہ میں اس کی آواز بہت بلند ہو گئی اس میں سے ایسی گونج نکلتی جو بہت ہی قلب پر اثر کرتی تھی اور اس جیسا موذن ہمیں کم ہی میسر آیا ہے۔تو آواز بلند کی جاسکتی ہے۔میں عورتوں کو پڑھاتا ہوں۔ہمارے ملک کی رسم کے مطابق وہ نیچی آواز سے پڑھتی ہیں اور ان میں جو میری رشتہ دار ہیں یا جو چھوٹی عمر کی ہیں انہیں اپنے سامنے دور کھڑا کر کے کہتا ہوں وہاں سے مجھے سبق سناؤ اس طرح ان کی آواز بلند ہوتی جاتی ہے۔پس اساتذہ کا کام ہے کہ جن لڑکوں کی آواز نیچی ہو ان کی آواز بلند کرائیں۔پھر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے ایڈریس کے نہ صرف مضمون اور عبارت پر مجھے اعتراض ہے بلکہ پڑھنے کے طریق پر بھی اعتراض ہے۔ہمارے مدرسہ احمدیہ کے لڑکے اور فارغ التحصیل لڑکے کا لہجہ بہت اچھا ہونا چاہئے مگر پہلے ہی جب السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کی آواز میرے کان میں پڑی تو میری روح کانپ گئی کہ "ک" کے ”ق“ بننے شروع ہو گئے۔غلطیاں ہوتی ہیں اور مجھ سے بھی ض دفعہ الفاظ کے ادا کرنے میں ہو جاتی ہے اور کوئی نہیں کہ سکتا کہ اس سے کبھی الفاظ کی غلطی نہیں ہوئی۔ایک دفعہ یہاں لکھنو کا ایک شخص آیا۔حضرت مسیح موعود نے اسے سمجھایا کہ ہم لوگ ”ق“ کو صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتے مگر وہ اسی بات پر بگڑ گیا اور کہنے لگا یہ عجیب بعض