زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 257
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 257 جلد اول حضرت قاضی امیرحسین صاحب کے اعزاز میں الوداعی تقریب حضرت قاضی امیرحسین صاحب کے اعزاز میں طلباء مدرسہ احمدیہ نے الوداعی تقریب کا انعقاد کیا جس میں حضرت خلیفۃ السیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی۔شایدان چند لوگوں میں سے میں بھی ایک ہوں جنہوں نے اُس زمانہ میں قاضی صاحب کو مدرسہ میں پڑھاتے دیکھا ہے جب مدرسہ نہایت ابتدائی حالت میں تھا اس لئے میں سمجھتا ہوں شاید چند ہی اور آدمی ہوں گے شاید میں اس لئے کہتا ہوں کہ مجھے پتہ نہیں ہیں یا نہیں مجھے نظر کوئی نہیں آتا جو اس وقت کی تعلیمی کیفیات سے واقف ہوں۔اُس وقت یہ عمارتیں ( بورڈنگ مدرسہ احمدیہ ) نہ تھیں بلکہ یہاں پانی ہوتا تھا اور اس جگہ لوگ نہایا کرتے تھے۔صرف ایک عمارت تھی جس میں چند کلاسیں پڑھتی تھیں۔اس میں بھی وہ دو کمرے جو راستہ کی طرف ہیں نہ تھے۔صرف چار کمرے تھے جو کنویں کے سامنے ہیں۔اب بازار کی طرف جو کمرے ہیں وہ بعد میں بنائے گئے۔اُس وقت نہ بیچ ہوتے تھے نہ کرسیاں، نہ ڈیکس ہوتے تھے نہ میزیں، صرف تیڑ ( ٹاٹ ) ہوتے تھے۔اور وہ بھی ایلیجن ملز کے بنے ہوئے نہیں بلکہ عام تپڑ جو چوہڑے چمار بنا کر بیچتے ہیں۔وہ عرض میں اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی معمولی جسم والا انسان بھی ان پر بیٹھے تو اس کا آدھا جسم نیچے ہو۔جانماز استاد کی جگہ ہوتی تھی اس طرح اس سکول کی بنیاد پڑی اور اُس وقت قاضی صاحب پڑھانے کے لئے آئے۔جس وقت قاضی صاحب یہاں تشریف لائے ہیں اس سے پہلے غالباً امرتسر میں کام کرتے تھے۔ان کی یہاں کی ابتدائی تنخواہ اتنی تھوڑی