زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 258
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 258 جلد اول تھی جواب چپڑاسی کی بھی نہیں۔انہیں 9 یا دس روپے تب ملتے تھے اور چپڑاسی کو گیارہ روپے اُن دنوں ملتے ہیں۔اس رنگ میں سکول شروع ہوا اور اس طرح قاضی صاحب نے کام کیا جو آج اپنی عمر کا بڑا حصہ تعلیم میں گزار کر کارکن سمجھے جاتے ہیں۔اس زمانہ کے قریب ہی مگر قاضی صاحب سے بعد مولوی شیر علی صاحب آئے جو 20 یا 25 روپیہ تنخواہ لیتے تھے۔یہ ذکر میں اس لئے کرتا ہوں کہ باہر کے کچھ لوگ کہتے ہیں قادیان والے باہر کے لوگوں کو کہتے ہیں دین کے لئے قربانی کرو مگر خود نہیں کرتے۔حالانکہ یہاں کام کرنے والوں میں اب بھی ایسی مثالیں مل سکتی ہیں کہ گریجوایٹ ہو کر 25 | 40،30، 50 روپیہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔اس وقت قاضی صاحب اور مولوی صاحب جیسے کارکن تھے جو اتنا قلیل گذارہ لے کر کام کرتے تھے۔اُس وقت کے متعلق مجھے یاد ہے ابتدا میں بہت تھوڑے طالب علم ہوتے تھے جو تیر کھینچ کر ادھر ادھر جہاں دھوپ ہوتی کر لیتے تھے۔میری عمر اُس وقت گیارہ سال کے قریب ہو گی مگر اُس وقت کے نظارے مجھے ابھی تک یاد ہیں۔جیسی کہ طالب علموں میں عادت ہوتی ہے جو عیب ہی ہے مگر یہ عیب پایا جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ہمیشہ ہی ان میں رہے گا کہ استادوں کے لب ولہجہ کی نقل اتارتے ہیں مگر پس پشت۔اسی طرح وہ لڑکے بھی کیا کرتے تھے مگر سارے کے سارے طالب علم اس بات پر متفق تھے کہ قاضی صاحب پڑھائی کا پورا وقت لے لیتے ہیں۔لڑکے ان کے محاوروں کی نقل کرتے اور ہنتے تھے مگر یہ بھی کہتے تھے کہ قاضی صاحب وقت پورا لیتے ہیں۔اور میرا تجربہ ہے اور میں نے کئی استادوں سے پڑھنے کے بعد جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مجھے وہ باتیں بہت زیادہ یاد تھیں جو میں نے قاضی صاحب سے پڑھیں یہ نسبت اور استادوں کی پڑھائی ہوئی باتوں کے۔میں مدرسہ کے وقت کے علاوہ بھی قاضی صاحب سے پڑھتا رہا ہوں۔اس وقت قاضی صاحب ایک ایسی کوٹھڑی میں مع بیوی بچوں کے رہا کرتے تھے جس میں اب اگر کسی طالب علم کو بھی رکھا جائے تو شور مچادے۔میں وہیں پڑھنے جایا کرتا تھا۔اس کے آگے صحن نہ تھا اس کے