زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 256
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 256 جلد اول بعض دفعہ رقم قلیل ہونے کے باعث انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اسے کیا مرکز میں بھیجیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رقم کی طرف نہیں دیکھا جاتا بلکہ اخلاص کی طرف دیکھا جاتا ہے اور ایمان کی زیادتی پر غور کیا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص یا اگر کوئی جماعت صرف چار آنے مرکز میں بھیجتی ہے تو وہی چار آنے اس کے اخلاص اور اس کے ایمان کا باعث ہو جاتے ہیں۔اور پھر اس کے اخلاص اور ایمان کو بڑھاتے بھی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آج اگر وہ چار آنے بھیجتا ہے تو کل اسے چار روپے بھیجنے کی تو فیق بھی مل سکتی ہے۔پس الہی سلسلوں میں مال کی قلت و کثرت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس میں ایمان اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے اور ایمان اور اخلاص کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سینکڑوں اور ہزاروں روپے ہی دیئے جائیں بلکہ اس کے لئے تو کوڑی بھی کافی ہوتی ہے۔پس ان سب باتوں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں سستی ، کوتاہی اور غفلت نہ کرنی چاہئے۔اپنی عزت اور وقار کو قائم رکھنا چاہئے اور پوری پوری مومنانہ شان دکھلانی چاہئے۔ہمارے مبلغ جو باہر جاتے ہیں وہ نمونہ ہوتے ہیں۔پس عمدہ نمونہ بنو تالوگ اس نمونہ کو دیکھ کر احمدیت کی حقیقت سمجھ سکیں۔اب دعا بھی کر لو کہ ہمارے پاس اگر کچھ ہے تو یہی ہے کہ خدا سے ہی ہر کام میں مدد (الفضل 15 ستمبر 1925ء) چاہیں۔1: الانعام: 124