زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 255

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 255 جلد اول قربانیاں بھی عام طور پر تدریجی ہوتی ہیں۔وہ بہت ہی تھوڑی مثالیں ہیں جن کے متعلق یکلخت بڑی قربانی کرنا مشہور ہے۔لیکن ان میں بھی اگر دیکھا جائے تو تدریجی حالت ہی ہوتی ہے جو ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ دنیا ان کی قربانی کو دیکھ کر یہ بھتی ہے کہ یہ قربانی یکلخت کی گئی ہے۔پس تدریجا بڑھنا چاہیئے گو ابتدا میں کوئی نمایاں کام سرانجام پاتے نظر نہیں آئیں گے تاہم کچھ نہ کچھ ہوضرور رہا ہوگا۔اور اگر متواتر اسے کیا جائے اور ترقی کی طرف قدم اٹھایا جائے تو ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ ان سب امور کے متعلق معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ یونہی نہیں تھے۔پس چاہئے کہ ان لوگوں میں باقاعدگی پیدا کی جائے اور پھر مل کر سب کاموں کا انتظام کریں۔چندے دیں، تبلیغ کریں۔میں نے باہر کے ملکوں کے لئے چندہ کا یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ ابتدائی حالات میں 3/4 وہ اپنے ہاں خرچ کریں اور 1/4 حصہ گُل زر چندہ کا مرکز میں بھیجیں۔مثلاً 100 رو پیدا گر کسی جگہ کا چندہ ہوا ہے تو اس میں سے 75 روپیہ تو وہاں مقامی ضروریات پر خرچ کر لیں اور 25 روپیہ مرکز میں روانہ کر دیں۔یہ نہیں کہ سارے کا سارا ہی وہاں رکھ لیا جائے یا سارے کا سارا یہاں بھیج دیا جائے۔اس انتظام سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایک تو ان لوگوں کا مرکز کے ساتھ تعلق قائم رہے گا اور ایک انس پیدا ہو جائے گا اور دوسرے مرکز نے چونکہ ان کی اور تمام دیگر ممالک کی نگرانی کرنی ہوتی ہے اور دنیا کی نظر مرکز پر ہوتی ہے اس لئے مرکزی اخراجات میں سب کا فرض ہے کہ حصہ لیں۔کیونکہ اگر مرکز کمزور ہو جائے تو بجائے فائدہ کے نقصان پیدا ہونے کا احتمال ہو جاتا ہے۔اس وجہ سے یہ انتظام کیا گیا ہے اور اس رنگ میں یہی انتظام ضروری بھی ہے اور انہی اغراض کے لئے 1/4 حصہ چندہ کا مرکز کے لئے رکھا گیا ہے اور آئندہ اسے اور بھی کم کرنے کا خیال ہے بڑھانے کا نہیں۔پس یہ ضروری اور نہای ضروری ہے کہ 3/4 حصہ مقامی ضروریات کے لئے رکھا جائے اور 1/4 حصہ مرکز میں بھیج دیا جائے۔