زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 254

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 254 جلد اول کے ساتھ ساتھ ان لوگوں میں تبلیغ کی عادت بھی پیدا کرنی چاہئے۔بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام کتب نہیں پڑھ سکتے اور پھر جو پڑھتے ہیں ان میں سے بھی بعض ایسے ہوتے ہیں جو حضرت صاحب کی کتابوں سے خاص خاص باتوں کو الگ نہیں کر سکتے۔اور ان دلائل سے کام نہیں لے سکتے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دعاوی کے ثبوت کے لئے دیئے ہیں۔اس لئے ایسے دلائل کی ایک کاپی رکھنی چاہئے اور ہر ایک مسئلہ کے متعلق اس میں سے نئے احمدیوں کو نوٹ کرا دینے چاہئیں۔اور ان کو تاکید کرنی چاہئے کہ ان کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔شروع شروع میں اتنا ہی کافی ہوگا۔پھر بعض مسائل اختلافی ہوتے ہیں اکثر اوقات ان کے سمجھنے میں بہت دقت پیدا ہو جاتی ہے ان مختلف فیہ مسائل کے متعلق بھی نوٹ کروا دینے چاہئیں۔اس طرح آہستہ آہستہ کام کرنے والے آدمی پیدا ہو جائیں گے اور جیسے جیسے ان میں ترقی ہوتی جائے گی ویسے ویسے کام میں بھی آسانیاں پیدا ہوتی جائیں گی۔خط و کتابت کے ذریعہ بھی تبلیغ کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس سے بھی مفید نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اس کے لئے اپنے طور پر ضلع مقرر کر لینے چاہئیں اور چھوٹے چھوٹے حلقے بنا دینے چاہئیں اور مقامی لوگوں میں سے ہی بعض کو ان پر مقرر کر دینا چاہئے تا کہ وہ خط و کتابت کا سلسلہ شروع رکھیں اور ان کو جس قسم کی مدد اس کام کے لئے درکار ہو وہ دینی چاہئے۔کام کرنے اور کام لینے سے اخلاص بڑھتا ہے اور جتنی کوئی شخص قربانی کرتا ہے اتنا ہی اس کا ایمان بڑھتا ہے۔ایمان خدا کے فضل سے ہی حاصل ہوتا ہے اور اسی کی طرف سے آتا ہے اور انعام کے طور پر ملتا ہے۔کسب سے اگر ہوتا تو ہر انسان اسے لے سکتا۔کسب کا تعلق زیادہ تر ظاہر کے ساتھ ہے لیکن اس کا محرک بھی باطن ہی پہلے ہوتا ہے اور باطن میں جو تحریک ہوتی ہے وہ من جانب اللہ ہی ہوتی ہے۔لیکن یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے فضل سے ہے اور کسب سے نہیں حاصل ہو سکتا کسی انسان کو اس کی طرف سے منہ نہیں پھیر لینا چاہئے بلکہ چاہئے کہ اس کے پانے کے لئے کوشش کرے اور تدریجاً اس میں بڑھے۔