زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 253
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 253 جلد اول اور اپنے حقوق کا مطالبہ نہایت نرم الفاظ میں کیا جانا چاہئے۔شورش اور بغاوت کے خیالات سے الگ رہا جائے۔حقوق مانگتے وقت مناسب الفاظ میں ان کی ضرورت اور اہمیت بھی بتا دینی چاہئے۔رعیت کی بھی مدد کرنی چاہئے اور حتی المقدور راعی کی بھی اگر اسے مدد کی ضرورت پڑے۔اگر ایک مبلغ ایسی پالیسی رکھے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ بھی اس کے خیر خواہ رہیں گے اور حکام بھی مدد کریں گے اور ان اصول پر چل کر وہ جہاں بھی جائے گا وہیں کا باشندہ ہو جائے گا اور لوگ اسے اپنا ہی آدمی خیال کریں گے۔دینی لحاظ سے اس بات کا خیال رہنا چاہئے ہماری کوئی بہادری نہیں یہ جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی طرف سے ہو رہا ہے۔دلائل بھی ہماری طرف سے نہیں وہ بھی خدا ہی کے ہیں۔ہم تو نقال میں علم تو در حقیقت خدا ہی کا ہے جو نبی کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے۔پس ہر حال میں اور ہر رنگ میں دعا کرنی چاہئے اور اسی کے آگے التجا کرنی چاہئے۔وہی کچھ کر سکتا ہے ورنہ اس کے فضل کے بغیر اگر انسان ایک قدم بھی اٹھانا چاہے تو نہیں اٹھا سکتا۔اور اگر اس کی مدد و نصرت شامل حال نہ ہو تو کسی بات کے کرنے کی توفیق ہی نہیں مل سکتی۔پس ہر وقت دعائیں مانگو اور اس میں ہر گز غفلت نہ ہو۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے که قریب قریب کے لوگ نہیں مانتے اور دور دور کے لوگ مان لیتے ہیں اس لئے دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ ہر ایک کو قبول کرنے کی توفیق بخشے۔رپورٹ ضرور بھیجنی چاہئے۔کام کرنا اور رپورٹ دینا یکساں فرض ہیں۔اگر کوئی کام نہ کرے اور جھوٹی رپورٹ دے دے تو جو نقصان اس سے ہوتا ہے وہی نقصان است سے ہوتا ہے جو کام کرتا ہے اور رپورٹ نہیں دیتا۔رپورٹ مرکزی دفتر میں بھی بھیجنی چاہئے اور میرے پاس بھی آنی چاہئے۔دفتر کو دینے والی رپورٹ بھی میرے لفافے میں ڈال دی جائے مخاطب دفتر ہو لیکن وہ آئے میرے نام کے لفافہ میں ہی۔اس سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ میں بھی اسے پڑھ لوں گا اور پھر وہ اپنے متعلقہ محکمہ میں بھی چلی جائے گی۔جہاں جماعت قائم ہو وہاں ضرور انجمن قائم کرنی چاہئے اور انجمن کو با قاعدہ کرنے