زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 252
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 252 جلد اول امن قائم نہیں رہ سکتا۔حکمران، رعیت کی طرف سے ایک قائم مقام کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ وہ انتخاب کے ذریعہ کھڑا کیا جاتا ہے۔چونکہ اسلام میں حکومت نیابتی ہوتی ہے اس لئے خدا نے خلافت کو بھی نیابتی کر دیا اور خلیفہ بھی انتخاب کے ذریعہ مقرر ہوتا ہے۔پس ہمارے مطالبات بہت زیادہ ہیں حتی کہ گاندھی جی بھی اتنے مطالبات نہیں کرتے جتنے شریعت نے حکومت کے متعلق ہمارے لئے رکھے ہیں۔لیکن ہمارے اور ان کے درمیان صرف اتنا فرق ہے کہ وہ شور اور فساد سے کام لیتے ہیں اور ہم امن اور آرام کے ساتھ اپنی بات پیش کرتے ہیں ورنہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہم مطالبہ کرنے میں ان سے زیادہ ہیں۔لیکن چونکہ شور نہیں بر پا کرتے اس لئے وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خوشامدی ہیں۔حالانکہ ہم خوشامد کو بہت ہی مذموم سے سمجھتے ہیں۔اگر کسی جگہ کوئی پرانی حکومت ہو تو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے دور کیا جائے بلکہ اس کے حقوق تسلیم کئے جائیں گے۔دیکھو ایک زمیندار بعض اوقات ثابت نہیں کر سکتا کہ زمین اس کی زرخرید ہے اور اس کی ملکیت کس طرح اس پر ہے۔لیکن باوجود اس کے اسے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس کا مالک نہیں بلکہ اس کے حقوق تسلیم کئے جاتے ہیں۔اور جوں جوں اسے قبضہ میں زیادہ عرصہ گزرتا جاتا ہے حقوق میں بھی مضبوطی پیدا ہوتی جاتی ہے۔پس کوئی حکومت نئی ہو یا پرانی کیسی بھی ہو اپنے حقوق امن کے ساتھ اس سے لینے چاہئیں۔باہم مل کر اتحاد کرنا چاہئے اور تعاون برتنا چاہئے۔اس کام کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کوئی خاص گورنمنٹ ہو تو اس کے ساتھ ہی یہ سلوک کیا جائے۔ہر ایک حکومت کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے۔تعاون اور اتحاد سب حکومتوں کے متعلق ہے اس میں کسی کی تفریق نہیں۔یہ ضروری ہے کہ مبلغ سیاست سے بالا ر ہیں تا کہ وہ آزادانہ رائی اور رعیت کو مشورہ دے سکیں۔انہیں چاہئے کہ وہ اپنے اصول سمجھا دیں کہ یہ ہمارے اصول ہیں اور پھر ان اصول پر کام بھی کریں۔اصول کے متعلق یہی یا درکھنا چاہئے کہ حکومت کی فرمانبرداری ہو