زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 251
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 251 جلد اول چاہئے کہ جو گورنمنٹ بھی ہو اس کی وفاداری کی جائے اور سیاسی امور میں دخل نہ دیا جائے۔بے شک اس سے اپنے حقوق مانگے جائیں لیکن کوئی شورش نہ ہو بلکہ امن کے ساتھ سب کا رروائی کی جائے۔اور نہایت بردباری، تحمل اور استقلال کے ساتھ اپنے مطالبات اس کے آگے پیش کئے جائیں۔ہماری جماعت کے متعلق لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں اور سمجھتے کیا ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں لیکن یہ ان کی نادانی ہے جو ہمارے متعلق ایسا کہتے ہیں۔ہمارے نزدیک خوشامد کوئی اچھی چیز نہیں اور نہ ہی ہم خوشامد کرتے ہیں۔ہمیں اگر کوئی ضرورت ہوتی ہے یا ہم نے اگر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہوتا ہے تو ہم اسے شریفانہ طرز پر کرتے ہیں دوسرے لوگوں کی طرح شورش پیدا نہیں کرتے۔اور چونکہ مطالبہ حقوق میں ہم ان کے پُرشور طریق کو اختیار نہیں کرتے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم خوشامد کرتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔خوشامد ، نفاق اور بے ایمانی ہمارا کام نہیں۔ہماری پالیسی اور مذہب یہ نہیں کہ ہم نفاق، غداری اور بغاوت کے طریق اختیار کریں بلکہ ہمارا اصول یہ ہے کہ امن، اتفاق اور ایمانداری سے ہر کام کو کریں اور خواہ کتنا ہی اہم ہمارا مطالبہ ہو اور خواہ کتنے ہی ضروری ہمارے حقوق ہوں ان کو طلب کرتے ہوئے یہ نہیں کہ شورش پیدا کی جائے بلکہ نہایت پُر امن طریق پر ان کی اہمیت بتا دی جائے اور پھر ان کا مطالبہ جاری رکھا جائے۔ہمارا اصل مقصد تو یہ ہے کہ امن ہو کیونکہ اس سے دین اور دنیا دونوں درست رہتے ہیں اور اگر امن ہو تو انسان ہر قسم کی ترقی بھی کر سکتا ہے۔امن کیا ہے؟ اگر مختلف حکومتوں اور پھر کسی خاص حکومت اور اس کی رعایا کے درمیان فساد نہ ہو تو اسے امن کہتے ہیں۔کوئی سی بھی حکومت ہو، خواہ وہ ڈچ ہو خواہ چینی ، خواہ وہ برٹش حکومت ہو خواہ افغانی اگر اس میں نفاق ہے، اگر اس کی رعیت بے ایمانی سے کام کرتی ہے تو وہ پُر امن حکومت نہیں کہلا سکتی۔اور پھر دوسری طرف یہ بھی درست نہیں کہ حکومت جو چاہے سو کرے کیونکہ اس سے بھی