زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 250

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 250 جلد اول لیں تو وہ اس میں اس قدر کامیاب نہیں ہو سکتے جس قدر کہ اس ملک کے اندرونی آدمی اور وہ بھی بڑے بڑے۔کیونکہ لوگ جب اپنے ملک کے بڑے بڑے آدمیوں کو کسی تحریک کو قبول کرتے دیکھتے ہیں تو آسانی سے اسے قبول کر لیتے ہیں۔پس یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہاں کے بڑے بڑے آدمیوں میں تبلیغ ہو اور وہ احمدیت کو قبول کر لیں۔اس کے میں کوئی شک نہیں کہ اکبر مُجْرِ مِنْهَا 1 کی سنت الہیہ بھی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ا کا بر میں سے بھی ایک حصہ ہدایت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔خواہ وہ اکابر علماء میں سے ہوں اور خواہ امراء سے۔آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا۔اکابر علماء میں سے تو حضرت خلیفہ اول نے قبول کیا اور ا کا بر امراء میں سے نواب محمد علی خان صاحب داخل سلسلہ ہوئے۔پس اللہ تعالیٰ ضرور چند ایک ایسے افراد کو سچائی قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے جوا کا بر ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ پھر وہ لوگ جو سچائی کے قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان اکابر کو جو سچائی قبول کر لیتے ہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت خلیفہ اول کو حقارت سے حکیم کہا کرتا تھا۔تو بڑے لوگوں میں کوشش کرنی چاہئے کہ ان میں سے بھی مانیں مگر یہ نہ ہو کہ سارا زور ان پر ہی خرچ کیا جائے اور دوسروں کو چھوڑ دیا جائے۔اور نہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے اور دوسروں کی طرف ہی ساری توجہ کر لی جائے۔بڑے آدمیوں کو داخل سلسلہ کرنے سے ایک یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ان کے ذریعے رسوخ بڑھتا ہے اور سلسلہ کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھتی ہے۔ہماری سیاسی پالیسی اس ملک میں یہ ہے کہ انگریزوں کی اطاعت کی جائے اور سیاست سے الگ رہا جائے لیکن چونکہ سماٹرا ہندوستان کا علاقہ نہیں اور ہماری جماعت ہندوستان کے علاوہ اور علاقوں میں بھی ہے اور ہمارے مبلغ خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونے کونے میں پھر رہے ہیں اس لئے اک ذرا سے تغیر کے ساتھ اسے یوں سمجھ لینا