زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 249
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 249 جلد اول مقابلہ اس لئے سخت نہیں کہ غیر مبائع اپنے عقائد کے لحاظ سے حق بجانب ہیں بلکہ اس لحاظ سے سخت ہے کہ بعض ناواقف لوگوں کے دلوں میں ان کے احمدی کہلا کر جھگڑنے سے طرح طرح کے ظن و گمان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر ان کے ساتھ اختلافی مسائل پر گفتگو کرنے کا بداثر بھی ہے۔اور خاص کر ایسے علاقہ میں تو اور بھی زیادہ بداثر پیدا ہوتا ہے کہ جہاں کے لوگ ہندوستان والوں کی طرح مذہبی جھگڑوں کے عادی نہیں۔کیونکہ ایسے لوگ جب ان اختلافی مسائل کو سنتے ہیں تو وہ پھر یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ یہ سلسلہ ہی باطل ہے۔حالانکہ اختلاف جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اختلاف ہو گیا تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد بھی اختلاف ہو گیا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی اختلاف ہو گیا تھا۔پس اگر اختلاف جھوٹا ہونے کی دلیل ہے تو پھر نعوذ باللہ جن جن انبیاء کے بعد ان کی جماعتوں میں اختلاف پید ہوا ان سب کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔مگر یہ لوگوں کی نا مجھی ہے کہ وہ ایسا سمجھتے ہیں تا ہم اس اختلاف سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بحث مباحثہ کا رنگ ان کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے اور ایسی طرز پر کام لینا چاہئے کہ اظہار حق ہو جائے اور حکمت عملی سے ان کے خیالات کا ازالہ کیا جائے۔جزیرہ جاوا کا ایک ہی طالب علم ہمارے ہاں ہے اور اس کی تعلیم ابھی ابتدائی ہے۔زیادہ سماٹرا کے طلباء ہیں۔جاوی طالب علم کو تو ابھی دیر لگے گی لیکن سماٹرا کے طالب علموں میں سے بعض سال دو سال میں انشاء اللہ تعالیٰ تیار ہو جائیں گے اور وہاں آ سکیں گے۔لیکن جاوی طالب علم اگر مل جاویں تو ان کا ضرور خیال رکھنا۔ملک میں ملکی آدمیوں کا بہت اثر ہوتا ہے۔بعض دفعہ یہ اثر بڑے بڑے انقلاب اور نتائج پیدا کر دیتا ہے۔یہ یاد رکھو لوگوں کی توجہ کھینچنے والی باہر کی بات ہوتی ہے لیکن منوانے والے اندر کے ہوتے ہیں۔یعنی باہر کے لوگ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ لوگوں کے کانوں میں کسی نئی تحریک کو ڈال کر ان کو اس کی طرف متوجہ کر دیں۔لیکن اگر وہ چاہیں کہ ان کو یہ تحریک منوا بھی