زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 230

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) انہوں نے تلاوت کی ہے۔230 جلد اول دوسری چیز میری خوشی کا موجب ایڈریس ہے۔تقریر کرنا یا ایڈریس پڑھنا ایک مشکل کام ہے۔عبارت آرائی بہت آسان ہے اور اس زمانہ میں خیالات کو عمدگی سے ظاہر کرنے میں بہت سی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں لیکن وہ چیز جو ہمارے ملک کے لوگوں کے لئے مشکل ہے وہ طریق ہے جس میں وہ اظہار خیالات کرتے ہیں۔یا تو کسی مضمون کے پڑھتے وقت ان کی اس طرف ساری توجہ ہوتی ہے کہ اتنے زور سے بولیں کہ تمام پبلک کو آواز سنائی دے یا پھر اپنی عبارت آرائیوں میں اس طرح الجھے ہوتے ہیں کہ سامعین کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔یا آواز میں ایسی خشونت ہوتی ہے کہ سننے والوں کے کانوں پر بوجھل معلوم ہوتی ہے۔یا اس قدر لجاجت ہوتی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے سننے والوں سے سوال کیا جا رہا ہے۔یا جذبات اور احساسات کا اتنا زور ہوتا ہے کہ سننے والے اسے تماشا خیال کرتے ہیں۔یا جذبات اور احساسات سے اتنی خالی ہوتی ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوتا کوئی انسان پڑھ رہا ہے بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی مشین سے آواز آرہی ہے۔مگر عزیز بدرالدین احمد نے جس رنگ میں ایڈریس پڑھا ہے وہ بہت قابل تعریف ہے۔آواز کے ساتھ جذبات نکل رہے تھے اور قلبی احساسات میں ہر لفظ لپٹا ہوا تھا۔مگر یہ چھلکا کسی بے وقوف مٹھائی بنانے والے کی طرح اتنا زیادہ نہ تھا کہ اصلی چیز گم ہو جائے اور میٹھا ہی میٹھا رہ جائے بلکہ اس انداز کا تھا کہ اصلی چیز کی خوبی اور بھی زیادہ نمایاں ہو۔چونکہ زندگی وقف کنندگان نے اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اس لئے نہ صرف انہیں علم کی ضرورت ہے ، نہ صرف اخلاص کی ضرورت ہے بلکہ ان کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ انہیں وہ طریق بھی آئے جس سے لوگوں تک اپنے خیالات، اپنے احساسات اور اپنے جذبات پہنچا سکیں۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان دونوں نوجوانوں نے جس طرح اپنے فرض کو ادا کیا ہے وہ میرے لئے نہایت ہی خوشی کا باعث ہے۔میرے نزدیک جماعت کا ہر فرد دین کے لئے زندگی وقف کنندہ ہے۔کیونکہ بیعت ا