زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 229
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 229 جلد اول خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے والے نو جوانوں سے خطاب 27 نومبر 1924ء کو خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے والے احمدی نو جوانوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی، آپ کے ہمرا بیان سفر اور دیگر معززین کو دعوت چائے دی۔اس موقع پر زندگی وقف کنندگان کے ایڈریس کے جواب میں حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔میں اپنی طرف سے اور اپنے ہمراہیان سفر کی طرف سے دین کے لئے زندگی وقف کنندگان کی جماعت کے اس ایڈریس پر جَزَاكُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ کہتے ہوئے اس خوبی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو آج میرے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔کیونکہ یہ آج پہلا موقع ہے کہ مجھے اپنے نو جوان انگریزی تعلیم یافتہ بچوں سے صحیح قرآن کریم کی تلاوت سننے کا موقع ملا ہے۔میں نے ہمیشہ نہایت افسوس سے اس امر کو محسوس کیا کہ اچھے اچھے تعلیم یافتہ قرآن کریم کے الفاظ کی صحت اور مخارج کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔بعض لوگ اچھی عربی جانتے ہیں مگر قرآن کریم کی تلاوت کے وقت الفاظ اس طرح بکھرے ہوئے ہوتے ہیں کہ نہ ان کا کوئی نظام ہوتا ہے نہ صحت مخارج کا لحاظ۔ان کی آواز یوں معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کی عربی کو اردو کا جامہ پہنایا جا رہا ہے۔لیکن ہمارے مولوی مطیع الرحمن صاحب بی۔اے نے بہت ہی اچھا قرآن پڑھا ہے۔گو وہ قاری نہیں ہیں اور بعض امور میں انہیں اصلاح کی ضرورت ہے مگر بہر حال اچھا اثر کرنے والا طریق ہے جس میں