زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 231

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 231 جلد اول کے معنی ہی وقف کرنے کے ہیں لیکن اس زمانہ میں حالات چونکہ ایسے ہیں کہ لفاظی بہت بڑھ گئی ہے اور حقیقت مخفی ہو گئی ہے اس لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ بار بار دریافت کیا جائے کس نے وقف کی حقیقت کو سمجھا ہے۔اس بات کے لئے مختلف طریق سے کسی انسان کے اندرونہ کو دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کوئی خیال ظاہر کرتا ہے جسے دوسرا کسی اور طرح سمجھا ہے۔اسے سمجھانے کے لئے اس خیال کو پھر اور طرح ظاہر کیا جاتا ہے۔اگر اس پر بھی وہ نہ سمجھے تو پھر اور طرح سمجھایا جاتا ہے۔اسی طرح وقف کنندگان کی اصطلاح ہے۔ہر ایک شخص جو بیعت کرتا ہے وہ وقف کنندہ ہے۔مگر ہر ا ایک اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتا اس لئے مختلف طریق سے سمجھاتے ہیں اور اس طرح وہ سمجھتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایسے لوگ نکلتے آتے ہیں جو صحیح طور پر مبائع کہلانے کے مستحق ہیں۔پس میں وقف کنندگان کے اس ایڈریس کے جواب میں اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وقف کنندہ اپنی بیعت کے اقرار کو دہراتا ہے اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو قرآن کریم نے بیعت کرنے والے کی رکھی ہیں۔اور جو مطیع الرحمن صاحب نے آیات قرآن کریم میں پڑھی ہیں ان کو یا د رکھنا چاہئے۔لیکن اگر وقف کنندگان ان کو نہ سمجھیں تو یہ پہلے سے بھی زیادہ زیر مواخذہ ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ انہیں بچے طور پر اپنی ذمہ داریوں کے مفہوم کو سمجھنے کی توفیق دے۔دین کی خدمت کرنے کا موقع بخشے جس سے اسلام کو بھی فائدہ ہو اور ان کو بھی فائدہ پہنچے۔اور یہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے مستحق ہو جائیں۔“ (الفضل 24 مارچ 1925ء)