زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 228

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 228 جلد اول آتے ہیں کہ وہ بہت نرم ہوتا ہے اور اس پر اثر ہوتا ہے۔دہریوں پر بھی ایسے وقت آ جاتے ہیں۔اس لئے کبھی یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یہ معمولی بات ہے یا کیا فائدہ ہوگا۔ان کا محبت اور اخلاق سے مذہبی پابندی کا خیال رکھا جاوے۔اس کے بعد لندن کے مبلغ کی موزونیت پر مِنُ وَجہ تبادلہ خیالات ہوتا رہا اور حضرت اس کے متعلق ضروری فیصلہ فرماتے رہے اور مبلغین کو یہاں کے لوگوں سے کام لینے کے طریق پر مختصر ہدایات دیتے رہے۔پھر نیچر کی تعریف کا سوال جو کانفرنس میں بھی اٹھا تھا پیش ہوا۔حضرت نے فرمایا۔نیچر وہ قانون ہے جس کے ذریعہ ہر چیز اپنی بناوٹ اور ساخت کے مطابق کام کرتی ہے۔نیچر گورننگ چیز نہیں ہوتی۔اگر ایسا ہوتا تو یہ سائنس دان خدا کی بھی کوئی نیچر بتاتے مگر ایسا نہیں ہے۔لاء ( قانون ) اصل چیز کی بناوٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ہر چیز کے دوسری چیزوں سے مل کر جو افعال سرزد ہوتے ہیں وہ اس کی نیچر ہے۔حضرت خلیفہ مسیح کو لا إِلهَ إِلَّا الله کے معنے یہ سمجھائے گئے تھے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی حیثیت مستقل نہیں اور یہ درست ہے کہ دنیا کی ہر چیز دوسری چیز سے کوئی نہ کوئی نسبتی تعلق رکھتی ہے۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اسی اصول کو بتایا ہے وَمِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَازَ و جَيْنِ 4 اس میں اسی نسبتی تعلق کی طرف اشارہ ہے۔غرض نیچر بذات خود کوئی گورننگ چیز نہیں ہے جنہوں نے ایسا سمجھا ہے غلطی کھائی ہے۔“ (الفضل 11 نومبر 1924ء) 1 : النساء: 66 2 التوبة : 61 :3 تاریخ طبری جلد 2 صفحه 64 مطبوعه بيروت 2012ء 4: الذاريات: 50