زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 217
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 217 جلد اول کہ جب ہمیں ان کی ضرورت پڑے گی ان سے کام لیں گے۔یہاں ان کو قواعد سکھائے جاتے ہیں اور جب کسی ملک میں ان کو بھیجنے کی ضرورت ہوگی وہاں بھیجے جائیں گے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ مشق کا ہر کام میں دخل ہوتا ہے اور اپنا ایک واقعہ بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ ہمارا ایک مکان بن رہا تھا۔مستری نظام الدین صاحب سیالکوٹی کام کر رہے تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر نیشہ چلانا آسان کام سمجھا اور ان کے باہر جانے پر تیشہ لے کر چلایا جس سے میری انگلی زخمی ہو گئی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ مجھے مشق نہ تھی اور ظاہر ہے کہ بغیر مشق کے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔پس اگر تم صرف انگریزی پڑھتے رہو گے اور بولنے اور لکھنے کی مشق نہ کرو گے تو اس زبان میں بذریعہ تحریر و تقریر تیم اظہار خیال نہ کر سکو گے۔ہمارے سکول کے بچوں کو چاہئے کہ وہ اس میں مشق کریں اور اساتذہ ان کو موقع دیں۔بہتر ہو کہ ایڈریس پیش کرنے کے موقع پر اسی زبان میں ایڈریس پیش کیا جائے جس وہ شخص تعلق رکھتا ہو۔اگر کوئی صاحب انگریزی جانتے ہوں تو انگریزی میں اور نہ جانتے ہوں تو اردو میں۔اور عربی جانتے ہوں تو عربی میں پیش کیا جائے۔میں نے مجلس ارشاد اسی لئے قائم کی تھی مگر معلوم ہوتا ہے اس سے اب دلچسپی نہیں رہی۔جب تک میں جاتا رہا لوگوں نے دلچسپی لی اور جب میں نے جانا بند کر دیا اور کہہ بھی دیا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں سے کہ خود کہاں تک لوگوں میں اس کا شوق ہے تو وہ بند ہوگئی۔اب میں ایڈریس کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مختلف بچوں کو بولنے کا موقع ملنا چاہئے۔پہلے بھی ایک ایڈریس میاں عبد السلام نے پڑھا تھا اور آج بھی انہوں نے پڑھا ہے۔ان کا یہ ایڈریس بھی بہت عمدہ اور قابل تعریف ہے۔لیکن یہ طریق درست نہیں کہ اگر ایک شخص کی ایک موقع پر تعریف کی جائے تو آئندہ اس کے سوا دوسرا نہ بولے۔بلکہ چاہئے کہ دوسرے بچے بھی بولنے کی مشق کریں کیونکہ مجمع میں بولنے کے لئے بھی مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔جن لوگوں کو مجمعوں میں بولنے کی مشق نہ ہو وہ ایسے موقع پر بول نہیں سکتے۔ا میں نے دیکھا ہے کہ اگر مشق نہ ہو اور ایسے مجمع میں بولنے کی عادت نہ ہو تو اعصابی کمزوری کا اثر