زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 218

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 218 جلد اول ہیں ہوتا ہے۔ہمارے مولوی جلال الدین اچھے بولنے والے ہیں لوگ ان کی تعریف بھی کرتے یں مگر ان کو دو دفعہ میرے سامنے بولنے کا موقع ملا ہے اور دو ہی دفعہ اچھی طرح نہ بول سکے۔جب سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آپ کے سامنے بولنے میں مجھے ڈر آ جاتا ہے۔ان کو بوجہ عادت نہ ہونے کے میرے سامنے بولنے میں حجاب پیدا ہو گیا۔پس چاہئے کہ مختلف بچوں کو بولنے کا موقع دیا جائے کہ وہ مجمعوں میں بولنے کے عادی ہوں۔اس کے بعد میں اس مقصد کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کو پورا کر کے مفتی صاحب واپس آئے ہیں۔کل بھی طلباء مدرسہ احمدیہ کی خوشی کے اظہار کے وقت کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ اگر ایڈریس پیش کرنے والے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرنے کے لئے تیار نہیں تو ان کا یہ اظہار خوشی درست نہیں۔اس سے سمجھا جائے گا کہ وہ ظاہر میں خدمت دین کرنے والے کی عزت کرتے ہیں ورنہ در حقیقت اس کام کو ذلت سمجھتے ہیں اور اس شخص کے متعلق جن خیالات مسرت کو ظاہر کرتے ہیں وہ منافقت کے خیالات ہیں اور ان کے دل اس بات پر خوش نہیں جس پر ان کی زبان خوشی کا اظہار کرتی ہے۔اچھے اچھے لوگوں کو دیکھا ہے اور میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں کہ جب ان کے کسی دوست نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی تو انہوں نے طرح طرح سے اس کو روکا اور اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔اگر وہ غریب ہے تو کہا کہ تمہارے والدین غریب ہیں تم ملازمت کر کے ان کی خدمت کرتے۔اور اگر امیر ہے تو کہا کہ تمہارے رشتہ دار بڑے بڑے عہدوں پر تھے اور تمہارے لئے ترقی کا اچھا موقع تھا۔گویا امیر اور غریب دونوں کو خدمت دین سے روکا۔امیر کو ترقی کا لالچ دلا کر اور غریب کو ماں باپ کی حالت پیش کر کے۔اب رہ گئی مڈل کلاس۔جس کا فلسفیانہ وجود تو ہے مگر در حقیقت لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے۔کیونکہ لوگ اپنے آپ کو یا تو امیر کہتے ہیں یا غریب۔پس جب دونوں جماعتیں خدمت دین کے ناقابل ہوں تو پھر کون دین کی خدمت کرے گا۔ایسے لوگ اگر مبلغین کے کام پر خوشی کا اظہار کرتے اور ان کی تعریفیں کرتے ہیں تو وہ منافق