زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 216
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 216 جلد اول انگریزی بولیں اور انگریزی لکھیں اس لئے لکھنے کی قوت پیدا نہ ہوتی تھی۔اگر اس وقت کوئی استاد جماعت میں جا کر انگریزی پڑھاتا تو الا مَا شَاءَ اللہ سبھی لڑکے منہ دیکھتے رہ جاتے کہ استاد نے کیا کہا ہے مگر اب تو پرائمری سے ہی انگریزی زبان پر زور دیا جاتا ہے۔پس طلباء کو چاہئے کہ مفتی صاحب کی تقریر سے فائدہ اٹھا کر انگریزی لکھنے اور بولنے کی مشق پر زیادہ توجہ کریں۔کیونکہ کوئی کام محض سیکھ لینے سے نہیں آتا بلکہ کرنے سے آتا ہے۔میں اپنی نسبت کہتا ہوں اور ہر جگہ انکساری ضروری نہیں ہوتی اس لئے کہتا ہوں کہ میں انگریزی کے الفاظ کسی اچھے سے اچھے گریجوایٹ سے زیادہ جانتا ہوں اور ان کے طریق استعمال سے بھی واقف ہوں مگر بول نہیں سکتا۔کیونکہ ابتدا سے میں نے ادھر توجہ نہیں کی۔پس تم پڑھنے میں یہ بات مد نظر رکھو کہ انگریزی زبان لکھ سکو اور بول سکو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بنانے کی اصل غرض یہی تھی کہ یہاں ایسے آدمی تیار ہوں جو انگریزی ممالک میں جا کر بوقت ضرورت تبلیغی کام کریں۔ان ممالک میں تبلیغ نہیں ہو سکتی جب تک ان کی زبان سے واقفیت اور ان کے علوم میں قابلیت نہ ہو۔انگریزی ہی پر موقوف نہیں ہم فرانسیسی زبان بھی سکھلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔اسی طرح جرمنی، روسی وغیرہ تمام زبانیں سیکھنی ضروری ہیں لیکن فی الحال ان کا انتظام مشکل ہے۔اگر ہمارے پاس سامان کی کمی نہ ہوتی تو ہم وہ تمام زبانیں اپنے بچوں کو سکھاتے جن کا جاننا ان ملکوں میں ضروری ہے جہاں اردو سے کام نہیں چل سکتا۔اس سکول سے غرض یہ نہ تھی کہ اعلیٰ ملازمتوں کے لئے آدمی تیار کئے جائیں بلکہ یہ تھی کہ مبلغ تیار ہوں۔اس لئے اس سکول کی ایسی حیثیت ہے جیسے ٹیری ٹوریل (Territorial) فورسز کی ہوتی ہے کہ سال میں ایک ماہ جا کر کام سیکھ آتے ہیں۔کیونکہ فوج کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک ریگولر فوج اور دوسری ٹیری ٹوریل۔اس طرح ایک ہمارے با قاعدہ مبلغ ہوتے ہیں اور ایک ٹیری ٹوریل فوج کی طرح۔اور وہ یہ ہمارے ہائی سکول کے طلباء ہیں