زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 211
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 211 جلد اول جب مفتی صاحب ساحل امریکہ پر پہنچے تو ان کو داخلہ ملک سے روکا گیا۔ان کا داخلہ ایک خاص نشان ہے۔میں نے ان دنوں سیالکوٹ میں تقریر کی جس میں کہا تھا کہ امریکہ کے پاس جہاز ہیں وہ سمجھتا ہے کہ یورپ کی طاقتیں اس سے ڈرتی ہیں پھر اس کو اپنی فوجوں پر ناز ہے مگر باوجود اپنے ان سامانوں کے وہ ہمیں داخلہ سے نہیں روک سکتا۔ہم امریکہ میں داخل ہوں گے اور ضرور داخل ہوں گے۔اس بات سے وہاں کے لوگ متعجب ہوئے اور بعض غیر احمدیوں نے کہلا بھیجا کہ یہ تو بڑی بات ہے جو انہوں نے کہی ہے مگر وہ ان باتوں سے واقف نہ تھے کیونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ مفتی صاحب امریکہ میں ضرور داخل ہوں گے۔اس کے بعد میں ایڈریس کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔میری ہمیشہ سے یہ خواہش ہے کہ مدرسہ احمد یہ علمی ترقی کرے۔میں ہمیشہ ایڈریسوں پر ریمارک اسی نیست سے کیا کرتا ہوں کہ ان میں اصلاح کی جائے۔آج جو ایڈریس پڑھا گیا ہے وہ موقع کے مناسب ہے۔اس کی عبارت اور مضمون بھی عمدہ ہے۔اگر یہ کسی خاص فرد سے تعلق نہیں رکھتا تو یہ قابل تعریف ہے اور پہلے ایڈریسوں سے ایک نمایاں ترقی ظاہر کرتا ہے۔میں ایڈریس پیش کرنے والوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنا فرض اتنا ہی نہ سمجھیں کہ ایڈریس پیش کر دیا اور خوش ہو گئے۔بلکہ ان کا ایڈریس اس وقت اصل ایڈریس ہوگا جس وقت وہ اپنے آپ کو خدمت دین کیلئے پیش کریں گے اور ہمیں ان کے اس ایڈریس کے پیش کرنے سے یہی توقع ہونی چاہئے۔یاد رکھو دین کی خدمت ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے اور وہی قوم زندہ رہتی ہے جس کا ہر ایک فرد قوم کے صحیح نظر یا پیش نظر کام کو اپنا مطح: فرض سمجھتا ہے۔پس اگر تبلیغ کے متعلق ہم یہ خیال کر لیں کہ چند مبلغوں کا کام ہے ؟ انگریزی خواں سمجھیں کہ مولویوں کا اور مولوی سمجھیں کہ انگریزی خوانوں کا کام ہے تو ہماری جماعت زندہ نہیں رہ سکتی اور ہم اپنے کام میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔کیا وہ قوم زندہ کہلا سکتی ہے جس کے دس پندرہ افراد زندہ ہوں؟ ڈاکٹروں نے تحقیق کی ہے کہ انسان کی